نارائن پیٹ میں لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ کا آغاز، 20 ماہ میں تکمیل کا ہدف
انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کسانوں کو زمین کے بدلے فی ایکڑ 20 لاکھ روپے تک معاوضہ فراہم کر رہی ہے، جو ملک کی تاریخ میں ایک نمایاں مثال ہے۔ اس پروجیکٹ پر تقریباً 4500 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور اسے آئندہ 20 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نارائن پیٹ: نارائن پیٹ، مکتھل اور کوڈنگل لفٹ ایریگیشن پروجیکٹ کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے علاقہ میں کئی دہائیوں سے جاری پانی کے مسئلہ کا حل ممکن ہوگا۔
ریاستی وزیر برائے کھیل، ڈیری انڈسٹری ترقی اور مویشی پروری جناب واکیٹی سری ہری نے ضلع نارائن پیٹ کے دامرگدہ کے قریب کانکورتی ریزروائر کے بھومی پوجا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ اس پروجیکٹ کو مکمل کیا جائے، جو اب وزیراعلیٰ تلنگانہ جناب اے ریونت ریڈی کی قیادت میں حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل سے نہ صرف کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی دستیاب ہوگا بلکہ روزگار کی تلاش میں ہونے والی نقل مکانی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
وزیر موصوف نے سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پالمور-رنگا ریڈی لفٹ ایریگیشن اسکیم کو مکمل کرنے کے وعدے کے باوجود اسے ادھورا چھوڑ دیا گیا، جس کے باعث متحدہ ضلع محبوب نگر کے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی چونکہ اسی خطہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ کسانوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کسانوں کو زمین کے بدلے فی ایکڑ 20 لاکھ روپے تک معاوضہ فراہم کر رہی ہے، جو ملک کی تاریخ میں ایک نمایاں مثال ہے۔ اس پروجیکٹ پر تقریباً 4500 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں اور اسے آئندہ 20 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر نے کانکورتی گاؤں کے کسانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 95 فیصد کسانوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی زمینیں اس منصوبے کے لیے دی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثالی اقدام ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جن خاندانوں نے اپنی زمینیں قربان کی ہیں، حکومت ان کی مکمل مدد کرے گی اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
اس موقع پر سابق ضلعی صدر کانگریس پارٹی جناب کے شیوا کمار ریڈی نے اسے عوام کی جیت اور وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی کامیاب کاوش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے علاقہ کے عوام پانی کے لیے احتجاج کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ حکومت کے اقدامات سے یہ دیرینہ مسئلہ حل ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
تقریب میں کانگریس قائدین بنڈی وینو گوپال، محمد سلیم (ٹاؤن صدر) اور دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔