مہاراشٹرا

ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی موت، فرانزک رپورٹ میں چوہے مار زہر سے ہلاکت کا سنسنی خیز انکشاف

یاد رہے کہ 26 اپریل کی رات 44 سالہ عبداللہ ڈوکاڈیا، ان کی اہلیہ نسرین (35) اور دو بیٹیوں عائشہ (16) اور زینب (13) کی موت ہوگئی تھی۔ موت سے چند گھنٹے قبل پورے خاندان نے تربوز کھایا تھا، جس کے بعد سے ہی شک کی سوئی تربوز پر ٹکی ہوئی تھی۔

ممبئی: ممبئی کے بھنڈی بازار علاقے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت کے معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب فرانزک رپورٹ میں موت کی اصل وجہ سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق، ڈوکاڈیا خاندان کی موت تربوز کھانے سے ہونے والی عام فوڈ پوائزننگ سے نہیں بلکہ چوہے مارنے والے انتہائی مہلک زہر ‘زنک فاسفائڈ’ (Zinc Phosphide) کی وجہ سے ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں
پلاسٹک کے نوٹ کی تجویز پر بات چیت ابتدائی سطح پر آر بی آئی گورنر
فلم دھرندھر دی ریوینج نے 339 کروڑ روپے کا بزنس کیا
ممبئی سمیت مہاراشٹر میں پانچویں اور آخری مرحلے کیلئے انتخابی مہم ختم
ہندوستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرادیا
رشبھ پنت ایر لفٹ کے ذریعہ امبانی ہاسپٹل منتقل

یاد رہے کہ 26 اپریل کی رات 44 سالہ عبداللہ ڈوکاڈیا، ان کی اہلیہ نسرین (35) اور دو بیٹیوں عائشہ (16) اور زینب (13) کی موت ہوگئی تھی۔ موت سے چند گھنٹے قبل پورے خاندان نے تربوز کھایا تھا، جس کے بعد سے ہی شک کی سوئی تربوز پر ٹکی ہوئی تھی۔

فرانزک رپورٹ کے اہم انکشافات
چاروں افراد کے جسمانی نمونوں اور ان کے کھائے ہوئے تربوز کے نمونوں میں ‘زنک فاسفائڈ’ کے اثرات پائے گئے ہیں۔

پولیس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ نمونوں میں کسی قسم کا کوئی انفیکشن یا جراثیم (Micro-organisms) نہیں پایا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قدرتی بیماری نہیں تھی۔

تربوز میں چوہے مار زہر کی موجودگی نے پولیس کو حیران کر دیا ہے۔ اب تفتیش اس رخ پر مڑ گئی ہے کہ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا یا خاندان کو ختم کرنے کی کوئی سوچی سمجھی سازش۔

زنک فاسفائڈ کتنا خطرناک ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق زنک فاسفائڈ ایک گہرے بھورے رنگ کا کیمیکل ہے جس میں سے لہسن جیسی بو آتی ہے۔

جب یہ انسانی معدے کے تیزاب (Acid) سے ملتا ہے، تو فاسفین گیس پیدا کرتا ہے۔

یہ گیس جسم میں داخل ہوتے ہی پھیپھڑوں، جگر اور دل پر حملہ کرتی ہے، جس سے سانس لینے میں دشواری اور پیٹ میں شدید درد ہوتا ہے، جو بالآخر موت کا سبب بنتا ہے۔

ممبئی پولیس اب اس بات کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے کہ زہر تربوز کے اندر کیسے پہنچا؟ کیا یہ دکاندار کی لاپرواہی تھی یا کسی نے جان بوجھ کر پھل میں زہر ملایا تھا؟