حیدرآباد

گنگا جمنی تہذیب کے فروغ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا اہم رول، اردو یونیورسٹی میں سمینار

پروفیسر اشتیاق احمد نے سرسید احمد خان کے مشہور قول ”ہندوستان ایک خوبصورت دلہن ہے اور ہندو او ر مسلمان اس کی دو آنکھیں“ کا حوالہ دیا۔

حیدرآباد: گنگا جمنی تہذیب کے فروغ میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا اہم رول رہا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، شعبہ تعلیم و تربیت میں گنگا جمنی تہذیب پر کل ایک روزہ ورکشاپ میں افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار نے اس کا خیال کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں
اقلیتی اسکالرشپس میں بے ضابطگیوں کو حل کرنے کا مطالبہ۔ مانو کے طلبہ کا احتجاج
مانو فاصلاتی پروگرامس کے داخلوں کی آخری تاریخ میں توسیع
مناسب ہدف کا تعین اور سخت محنت کیریئر میں کامیابی کی ضمانت۔ مانو میں طلبہ کا تعارفی پروگرام
اردو یونیورسٹی میں فاصلاتی تعلیم کے مسائل حل کرنے کا تیقن: رجسٹرار
اُردو یونیورسٹی میں فیشن ٹیکنالوجی و انٹیریر ڈیزائننگ کے لئے یادداشت مفاہمت

پروفیسر اشتیاق احمد نے سرسید احمد خان کے مشہور قول ”ہندوستان ایک خوبصورت دلہن ہے اور ہندو او ر مسلمان اس کی دو آنکھیں“ کا حوالہ دیا۔

پروفیسر صدیقی محمد محمود، ڈین اسکول برائے تعلیم و تربیت نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے ہندوستان کی انفرادیت اورخوبصورتی پر روشنی ڈالتے ہوئے گنگا جمنی تہذیب ماضی، حال اور مستقبل کے متعلق گفتگو کی۔

پہلے ٹکنیکل سیشن میں پروفیسر شگفتہ شاہین،او ایس ڈی I نے گنگا جمنی تہذیب کے فروغ میں تعلیم کے کردار پر گفتگو کی۔ پروفیسر ایم وی رام کمار رتنم، پروفیسر جے وی مدھوسدن، ڈاکٹر ٹی سیموئل پیکم، پروفیسر علیم اشرف جائسی، پروفیسر ایم ونجا، پروفیسر گلفشاں حبیب، ڈاکٹر سید محمود کاظمی تکنیکی سیشنس کے مقررین میں شامل تھے۔

پروفیسر محمد مشاہد، صدر شعبہ نے خیر مقدم کیا۔ پروفیسر رضاءاللہ خان ، پروفیسر وقار النساءنے اختتامی اجلاس میں اپنے تاثرات پیش کیے۔ پروفیسر شاہین الطاف شیخ، ڈاکٹر فیروز عالم اور ڈاکٹر محمد اطہر حسین نے تین متوازی تکنیکی سیشنس کی صدارت کی۔

ڈاکٹر اشونی سمینار کوآرڈینیٹر تھے جبکہ ڈاکٹر وی ایس۔ سومی شریک کو آرڈینیٹر۔کمیٹی ممبران میں ڈاکٹر اختر پروین، ڈاکٹر عبدالجبار، ڈاکٹر صمد تاژے وڈاکائل، ڈاکٹر جرار احمد، ڈاکٹر ام سلمہ، اور ڈاکٹر بی بھاگیما شامل ہیں۔سمینار میں مجموعی طور پر 61 مقالے پیش کیے گئے۔