امریکہ و کینیڈا

امریکہ اور ایران معاہدے کی خبروں سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے عالمی تیل سپلائی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

لندن: امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ سرمایہ کاروں میں بھی مثبت رجحان پیدا ہوگیا۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
امریکہ میں مسلمانوں کو گھروں اور مسجد کی تعمیر سے روک دیا گیا
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ


عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔


دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 8 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔


ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ کمی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔


بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔


رپورٹس کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے کئی اہم نکات پر باضابطہ ردعمل متوقع ہے۔


ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی محدود کرنے پر آمادگی جبکہ امریکہ کی جانب سے بعض پابندیاں نرم کرنے اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے عالمی تیل سپلائی معمول پر آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔


یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد بھی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔


معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام آئے گا بلکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔