بھارت

آن لائن بیٹنگ کو آئینی تحفظ حاصل نہیں، ریاستوں کو پابندی کا مکمل اختیار، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ نے آن لائن رمی، پوکر اور دیگر ایسی گیمز میں رقم داؤ پر لگانے کے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کھیلوں میں مہارت کا عنصر موجود ہو سکتا ہے، لیکن جب ان کے ساتھ مالی شرط یا داؤ شامل ہو جائے تو یہ سرگرمی جوا تصور کی جائے گی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آن لائن بیٹنگ اور شرط لگانے والے پلیٹ فارمز کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگرچہ بعض آن لائن کھیل مہارت پر مبنی ہو سکتے ہیں، تاہم ان پر رقم داؤ پر لگانا جوا کے زمرے میں آتا ہے اور اسے آئینی تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ خبریں
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
گروپI امتحانات، 46مراکز پر امتحان کا آغاز
خریدے جب کوئی گڑیا‘ دوپٹا ساتھ لیتی ہے

 عدالت عظمیٰ نے تمل ناڈو اور کرناٹک کی جانب سے مختلف کھیلوں پر آن لائن بیٹنگ پر عائد پابندیوں کو آئینی قرار دیتے ہوئے ان قوانین کی توثیق کر دی ہے۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آن لائن گیمنگ اور بیٹنگ سے متعلق قوانین بنانے کا مکمل اختیار ریاستی حکومتوں کو حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ عوامی مفاد، امن و امان اور سماجی تحفظ کے پیش نظر ریاستیں ایسے پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے آن لائن رمی، پوکر اور دیگر ایسی گیمز میں رقم داؤ پر لگانے کے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کھیلوں میں مہارت کا عنصر موجود ہو سکتا ہے، لیکن جب ان کے ساتھ مالی شرط یا داؤ شامل ہو جائے تو یہ سرگرمی جوا تصور کی جائے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ آن لائن گیمنگ اور بیٹنگ کی لت نوجوانوں کو قرضوں، مالی مشکلات اور بعض اوقات خودکشی جیسے سنگین نتائج کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہی سماجی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ملک بھر کی ریاستوں کے لیے آن لائن بیٹنگ ایپس اور پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرنے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے، جس سے مستقبل میں اس شعبے کے لیے سخت ضوابط متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔