تلنگانہ

صدر جاگروتی کے کویتا کا نکل گنڈی پراجیکٹ کا دورہ، متاثرہ کسانوں سے اظہار یکجہتی

انہوں نے اس بات پر شدید تنقید کی کہ پراجیکٹ کے کام نہ صرف سست روی کا شکار ہیں بلکہ معیار بھی ناقص ہے، ہلکی سی بارش میں ہی دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس سے مقامی عوام میں خوف و بےچینی پھیل گئی ہے۔

حیدرآباد: صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جاگروتی جنم باٹا پروگرام کے تحت نلگنڈہ ضلع میں نکل گنڈی پراجیکٹ کا دورہ کیا اور وہاں کے متاثرہ کسانوں اور بےگھر خاندانوں سے ملاقات کی۔کویتا نے کہا کہ نکل گنڈی پراجیکٹ کی منصوبہ بندی سابق حکومتوں کے دور میں ہوئی تھی مگر آج تک مکمل نہیں ہو پایا۔ زمینیں 2007 میں حاصل کرلی گئیں لیکن زیادہ تر متاثرین کو نہ مناسب معاوضہ ملا، نہ بازآبادکاری، نہ رہائشی کالونیاں فراہم کی گئیں۔ کئی خاندان آج بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچارہیں۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
ڈی ای او ڈاکٹر رویندر ریڈی نے اردو پرائمری اسکول اولہ کا دورہ کیا
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ناقص تعمیراتی کام اور سائنسی پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے باعث ایک بڑا حادثہ پیش آیا، جس میں آٹھ مزدور ہلاک ہوئے، مگر حکومت نے اس سانحے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔کویتا نے کہا کہ حکومت کی بےحسی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ کسانوں کی زمینوں کو سرکاری ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجہ میں وہ رعیتوبھروسہ، قرضوں اور بجلی جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔

انہوں نے اس بات پر شدید تنقید کی کہ پراجیکٹ کے کام نہ صرف سست روی کا شکار ہیں بلکہ معیار بھی ناقص ہے، ہلکی سی بارش میں ہی دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس سے مقامی عوام میں خوف و بےچینی پھیل گئی ہے۔

کویتا نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر معاوضہ، بازآبادکاری اور معیار پر توجہ نہیں دی تو وہ وزیر اعلیٰ اور متعلقہ وزیر سے ملاقات کر کے متاثرین کے حق میں آواز بلند کریں گی۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ دورہ سیاسی مقصد کے لئے نہیں بلکہ عوام کے مسائل جاننے اور ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے کے لئے ہے۔