شریک حیات سے الفت ‘آخرت بھی سنوار دیتی ہے
بیویوں سے حسن سلوک کا مشورہ-محفل" عصرانہ "سے پروفیسر مسعود احمد جناب فرید سحر اور جناب منور حسین کا خطاب- شعرا نے کلام سنایا
بیویوں سے حسن سلوک کا مشورہ-محفل” عصرانہ "سے پروفیسر مسعود احمد جناب فرید سحر اور جناب منور حسین کا خطاب- شعرا نے کلام سنایا
حیدرآبا : خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کو منوایا ہے اور موجودہ دور میں بھی اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے باعث عالمی طور پر اپنی نمایاں شناخت بنا رہی ہیں ان خیالات کا اظہار پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ حیدرآباد نے ایوان احمد علی عبداللہ انکلیو ملک پیٹ میں منعقدہ ہفتہ واری بارہویں محفل "عصرانہ "سے خطاب کرتے ہوئے کیا
پروفیسر محمد مسعود احمد جو ایک مشہور شاعر اور ادیب بھی ہیں’ نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع میں واضح طور پر یہ تلقین فرمائی کہ خواتین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو آج کے دور میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خواتین مختلف نامحرومیوں کا شکار ہیں علاوہ ازیں وہ اپنے گھروں میں ہی اجنبی سی ہو کر رہ گئی ہیں انہیں جو حقوق ملنے ہیں وہ ٹھیک طور سے نہیں مل رہے ہیں
انہوں نے خواتین بالخصوص بیویوں کے ساتھ کے ساتھ حسن سلوک کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ "شریک حیات سے الفت’ آخرت بھی سنوار دیتی ہے” اگر کوئی اپنے احباب اور پڑوسیوں سے بہتر تعلقات رکھتا ہے لیکن اپنے گھر والوں یعنی بچوں اور اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہیں آتا ہے تو ایسا شخص اللہ کے پاس جواب دہ ہے انہوں نے کہا کہ ہر کسی میں خوبی اور خامی موجود ہوتی ہے ہمیں چاہیے کہ بیوی کی اچھائیوں پر نظر رکھیں انسانی رشتوں میں ماں بیٹی اور بیوی کی محبت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان رشتوں کی بہت زیادہ پاسداری کریں
موجودہ دور میں شعرا برادری نے صرف جمالیاتی شاعری پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے جبکہ خواتین بالخصوص بیویوں کے ساتھ کس طرح حسن سلوک کیا جائے اگر اس کو شعراء کرام اپنی شاعری میں واضح طور پر نمایاں کریں تو پھر معاشرے میں موجود جھگڑے بڑی حد تک ختم ہو سکتے ہیں نوجوان نسل کو بھی اپنی ماں بہن اور پھر شادی کے بعد اپنی بیوی سے کس طرح سے پیش آئیں ‘ان کو سمجھانا وقت کا تقاضہ ہے کئی جگہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مرد حضرات بھی خواتین کی عدم توجہی اور غیر ہمدردانہ رویہ اور سخت لب و لہجے کے باعث کافی پریشان ہیں خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شوہروں کی تعظیم اور تکریم کریں اور اپنے شوہر کے ساتھ انتہائی مشفقانہ و مودبانہ رویہ اختیار کریں
پروفیسر مسعود احمد نے اس موقع پر اپنا ایک قطعہ سنایا
مانا محبوب کی محبت بھی
تیری دنیا نکھار دیتی ہے
پر شریک حیات کی الفت
آخرت بھی سنوار دیتی ہے
محفل کی صدارت ممتاز و معروف مزاحیہ سنجیدہ و نعتیہ شاعر جناب فرید احمد سحر نے کی اور کہا کہ محفل عصرانہ کے ذریعہ شعرابرادری ہر منگل کو ایوان احمد میں اپنے کلام کے ذریعے سماج میں شعور بیداری کا کام کر رہی ہے جو قابل ستائش ہے ممتاز شاعرڈاکٹر فاروق شکیل مخدوم ایوارڈ یافتہ نے اس محفل کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا جناب محمد منور حسین صدر و بانی بزم احمد حسین نے پروفیسر مسعود احمد کی علمی و ادبی تہذیبی سرگرمیاں کو خراج تحسین پیش کیا جناب سید ظہور الدین صدر نشین سکندر آباد کو آپریٹیو بینک مہمان خصوصی تھےممتاز شاعر جناب نجیب احمد نجیب نے جناب محمد حسام الدین ریاض کے مشورہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ شعرا برادری کو چاہیے کہ وہ سیل فون میں دیکھ کر اپنا کلام پڑھنے کے بجائے ایک کاغذ پر لکھ کر کلام پڑھیں اس طرح کے عمل سے لکھنے کی عادت چھوٹنے نہ پائے گی
انہوں نے پروفیسر مسعود احمد کی علمی ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کی سرپرستی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے پروفیسر مسعود احمد کو دلی مبارکباد بھی پیش کی ناظم محفل ممتاز مزاحیہ ‘سنجیدہ اور نعتیہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے کہا کہ ایوان احمد میں جاری محفل عصرانہ کی اب تک 12 محفلیں منعقد ہو چکی ہیں پروفیسر مسعود احمد کی ایک خاص خوبی ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے اسے موضوع سخن بناتے ہیں یہ خود بھی شاعری کرتے ہیں اور شعرا برادری کو یکجا ہونے کا موقع فراہم کر رہے ہیں صدر محفل و مشاعرہ جناب سید فرید سحر کے علاوہ طاہر گلشن آبادی ‘پروفیسر محمد مسعود احمد’ علی جواد شہپر’ لطیف الدین لطیف’ زاہد ہریانوی’ معین احمر’ نجیب احمد نجیب ‘جہانگیر قیاس’ روشن علی روشن’ باسط علی رئیس اور سلیمان صدیقی اعتبار نے کلام سنایا جناب محمد حسام الدین ریاض نے شکریہ ادا کیا اس موقع پر جناب سید محمد بادشاہ حسینی عبید الحق شارجہ انڈین اسکول شارجہ دبئی سابق صدر شعبہ فزکس ‘جناب محمد مظفر احمد’ ڈاکٹر محمد ناظم علی’ جنا محمد عتیق الرحمن’ جناب مجتبی عابدی سینیئر کانگریس قائد و صدر نشین اردو کونسل ‘جناب محمد عارف یوسف’ جناب محمد اعظم علی ‘جناب محمد حسن الدین ‘جناب ارشاد سہیل، محمد اسمعیل احمد اور دوسروں نے شرکت کی