تلنگانہ

سپریم کورٹ کے چند وکلاء کی الیکشن کمیشن سے نمائندگی

سپریم کورٹ کے چند وکلاء نے تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے پرامن اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی ہے۔

حیدرآباد: سپریم کورٹ کے چند وکلاء نے تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے پرامن اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی ہے۔

متعلقہ خبریں
14ماہ بعد راجہ سنگھ پارٹی دفتر میں قدم رکھا
الیکشن کمیشن بے بس کٹھ پتلی، مودی کو نوٹس نہ بھیجنے پر کپل سبل کی تنقید
عصمت دری کے ملزم تھانہ انچارج کی ضمانت منسوخ
سپریم کورٹ میں نوٹ برائے ووٹ کیس کی سماعت ملتوی
26ہزار اساتذہ کی تقرری منسوخی پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار

سپریم کورٹ کے وکیل جگن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لے رہے امیدواروں کے اثاثہ جات اور ان کے خلاف درج مقدمات کا تفصیلی جائزہ لینا چاہئے۔

جگن نے مزید کہا کہ گزشتہ5 برسوں کے دوران2018 کے اسمبلی انتخابات کے امیدواروں کے اثاثہ جات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اس لئے ان کے اثاثہ جات کی مکمل جانچ کی جانی چاہئے۔

سابق میں داخل کردہ حلفنامہ اور موجودہ طور پر داخل کئے جارہے حلفنامہ کا موازنہ کرنا چاہئے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اثاثہ جات میں اضافہ کے ذرائع آیا غیر درست انداز میں (بدعنوانیوں۔بے قاعدگیوں) یا جائز طریقہ سے اضافہ ہوا ہے، اس کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کئی امیدواروں کی جانب سے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے رہنمایانہ خطوط پر عمل نہیں کیا جاتا ہے، تلنگانہ میں رقومات اور شراب کی تقسیم میں اضافہ ہوا ہے، اس رجحان کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جانے چاہئے۔