مشرق وسطیٰ

اکیس سال سے کم عمر گھریلو ملازمین رکھنےپر پابندی عائد

سعودی عرب میں اکیس سال سے کم عمر گھریلو ملازمین کی خدمات حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

جدہ: سعودی عرب میں اکیس سال سے کم عمر گھریلو ملازمین کی خدمات حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
دنیا کی بلند ترین زیرِ تعمیر عمارت کا منفرد سنگِ میل، سعودی عرب کو بڑا اعزاز
سعودی عرب میں عازمین حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار تک پہنچ گئی
اردو اکیڈمی جدہ کا گیارہواں سہ ماہی پروگرام شاندار انداز میں منعقد، تمثیلی مشاعرہ اور طلبہ کی پذیرائی
سعودی عرب میں میڈیکل و انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع پر IIPA کا رہنمائی سیشن
ادبی فورم ریاض کا مشاعرہ بہ یاد تابش مہدی مرحوم

سعودی گزٹ کے مطابق گھریلو ملازمین کے لیے نئے ضابطے کے تحت 21 سال سے کم عمر کے ملازمین کی خدمات حاصل کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، اس ضابطے کی خلاف ورزی پر آجر پر 20 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

جمعہ کو جاری ضابطے میں کہا گیا ہے کہ کہ ریگولیشن کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کی صورت میں آجر پر زیادہ سے زیادہ بیس ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ضابطے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آجر اور گھریلو کارکنان سے متعلق شکایات کی وصولی اور انھیں حل کرنے اور خلاف ورزیوں کی نگرانی کا اختیار وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کے پاس ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ آجر کی جانب سے نئے ضابطے کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والی کوئی بھی شرط گھریلو کام کے معاہدے کی میعاد کے دوران کالعدم تصور کی جائے گی، بہ شرط یہ کہ وہ گھریلو ملازم کے لیے زیادہ فائدہ مند نہ ہو۔

ضابطے کے مطابق آجر پر گھریلو ملازم یا اس کے ورثا کی جانب سے واجب الادا رقوم ایک سنگین قرض تصور کیا جاتا ہے، جن کی وصولی کے لیے کارکن اور ورثا آجر کے تمام اثاثوں پر قبضے کا حق رکھتے ہیں۔

اگر معاہدے کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ سے 12 ماہ کے بعد کارکن نے ضابطے میں بیان شدہ حقوق میں سے کسی ایک کا دعویٰ عدالت میں دائر کیا تو مجاز عدالت اس کی سماعت نہیں کرے گی، کارکن کو اس کے لیے کوئی قابل قبول عذر پیش کرنا ہوگا۔