صدر الفقہا مفتی محمد رحیم الدینؒ کی علمی و روحانی خدمات ناقابلِ فراموش: علماء
جلسہ کی صدارت مرکزی انجمن سیف الاسلام کے صدر انیسِ ملت حضرت مولانا عرفان اللہ شاہ نوری سیفی نے کی، جبکہ حضرت مولانا ابواللیث شاہ محمد غضنفر علی قریشی اسد ثنائی صدر تولیتی انتظامی کمیٹی درگاہ سراج المجذوبین حضرت سید خواجہ حسن برہنہ شاہؒ اور حضرت علامہ ڈاکٹر غلام خواجہ سیف اللہ سلمان سہروردی نائب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔
حیدرآباد: مرکزی انجمن سیف الاسلام کے زیر اہتمام مسجد تیغ جنگ، خلوت میں استاذ و اتالیق شہزادگانِ آصفیہ، مفتیٔ زماں، شمس المفسرین، تاج الملت والدین، صدر الفقہا حضرت علامہ الحاج الحافظ مفتی محمد رحیم الدینؒ سابق شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ و مفتی صدارت العالیہ ریاست آصفیہ حیدرآباد دکن کی 56ویں سالانہ فاتحہ کے موقع پر ایک عظیم الشان جلسہ یادگار منعقد کیا گیا، جس میں علماء، مشائخ اور معززینِ شہر نے شرکت کی۔
جلسہ کی صدارت مرکزی انجمن سیف الاسلام کے صدر انیسِ ملت حضرت مولانا عرفان اللہ شاہ نوری سیفی نے کی، جبکہ حضرت مولانا ابواللیث شاہ محمد غضنفر علی قریشی اسد ثنائی صدر تولیتی انتظامی کمیٹی درگاہ سراج المجذوبین حضرت سید خواجہ حسن برہنہ شاہؒ اور حضرت علامہ ڈاکٹر غلام خواجہ سیف اللہ سلمان سہروردی نائب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے بطور مہمانانِ خصوصی شرکت کی۔
جلسہ کا آغاز حافظ سید رضوان کی تلاوتِ قرآن مجید اور حافظ لطیف پاشاہ قادری کی نعتِ پاک سے ہوا۔
اپنے صدارتی خطاب میں مولانا عرفان اللہ شاہ نوری نے کہا کہ حضرت مفتی محمد رحیم الدینؒ کی ذات دینی آگاہیوں کا سرچشمہ تھی۔ آپ کی شخصیت ایسی باوقار اور باکمال تھی کہ آپ کو دیکھ کر خدا یاد آتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی ترقی اور طلبہ کا روشن مستقبل ہمیشہ حضرت مفتی صاحبؒ کی ترجیحات میں شامل رہا۔
انہوں نے بتایا کہ جب مذہبی اداروں میں صنعت و حرفت کے شعبے قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تو حضرت مفتی محمد رحیم الدینؒ نے فرمایا تھا کہ “میں طلبۂ علوم کو صنعت و مزدوری کرنے والا نہیں بلکہ قوموں کی امامت کرنے والا بنانا چاہتا ہوں۔”
مفتی محمد رحیم الدینؒ کے برادرزادہ مولانا قاضی اسد ثنائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت صدر الفقہاؒ علم و روحانیت کا عظیم مینار تھے۔ انہوں نے شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقیؒ کے شاگردِ رشید اور خلیفہ ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ و رعایا دونوں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود حضرت مفتی صاحبؒ نے نہایت سادگی اور پابندیِ شرع کے ساتھ زندگی گزاری۔
مولانا اسد ثنائی نے حضرت مفتی محمد رحیم الدینؒ کی منقبت بھی پیش کی، جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔
جامعہ نظامیہ کے نائب شیخ الحدیث حضرت علامہ ڈاکٹر غلام خواجہ سیف اللہ سلمان سہروردی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت مفتی محمد رحیم الدینؒ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علم و عرفان اور قربانی سے عبارت تھی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کو جب یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تو سب سے پہلے شیخ الجامعہ کے منصب پر حضرت مفتی محمد رحیم الدینؒ کو مقرر کیا گیا، جو ان کی علمی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “فتاویٰ صدارت العالیہ” حضرت مفتی صاحبؒ کی فقہی بصیرت اور علمی جلالت کا اہم سرمایہ ہے، جس کا جدید ایڈیشن جامعہ نظامیہ نے حال ہی میں شائع کیا ہے۔
جلسہ سے مولوی حافظ محمد رحمت اللہ سمحان عالم نظامیہ اور مولوی حافظ میر قادر علی چشتی نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر شاہ محمد عبدالغفور چشتی، مولانا محمد عبد الحنان چشتی استاذ جامعہ نظامیہ، ڈاکٹر محمد عبدالرحیم چشتی، سید امان صوفی سی اے، عبدالملک انجینئر اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
جلسہ کا اختتام حلقۂ ذکر اللہ، سلام بہ بارگاہِ خیرالانام ﷺ اور دعا پر ہوا۔