پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، بازار بند، سفری پابندیاں سخت!
اسی نازک صورتحال کے پیش نظر وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے ملک بھر میں “سمارٹ لاک ڈاؤن” نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ ریاستی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد لیا گیا، جس کا بنیادی مقصد تیل کے استعمال کو محدود کرنا اور دستیاب ذخائر کو محفوظ رکھنا ہے۔
لاہور: خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب Pakistan پر شدید انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں، جہاں تیل کے سنگین بحران نے حالات کو دن بہ دن مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ Strait of Hormuz کی بندش اور بیرونِ ملک سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث ملک کو بڑے معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسی نازک صورتحال کے پیش نظر وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے ملک بھر میں “سمارٹ لاک ڈاؤن” نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ ریاستی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے بعد لیا گیا، جس کا بنیادی مقصد تیل کے استعمال کو محدود کرنا اور دستیاب ذخائر کو محفوظ رکھنا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت بازار، دکانیں اور تمام کمرشل مراکز رات 8 بجے بند کرنا لازمی ہوگا، جبکہ بعض مخصوص علاقوں میں رات 9 بجے تک رعایت دی گئی ہے۔ جنرل اسٹورز اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز بھی 8 بجے تک ہی کھلے رہیں گے، تاہم بیکریوں، ریسٹورنٹس اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس کو رات 10 بجے تک کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
مزید برآں شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جہاں رات 10 بجے کے بعد صرف گھروں تک محدود اور کم افراد کے ساتھ تقریبات کی اجازت ہوگی۔ البتہ میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ عوام کو طبی سہولیات میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہ تمام اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں نجی گاڑیوں کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرکاری ٹرانسپورٹ مفت مہیا کی جا رہی ہے، خاص طور پر گلگت اور مظفرآباد میں ایک ماہ تک مفت سفر کی سہولت دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز دوبارہ کھل کر تیل کی سپلائی بحال نہیں ہو جاتی، یہ سخت پابندیاں جاری رہ سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید سخت ہو سکتے ہیں، جس کے لیے عوام کو پیشگی تیار رہنے کی ضرورت ہے۔