دھرانی پورٹل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے اسپیشل انکوائری ٹیم قائم
تحقیقات کے دائرہ کار میں 29 اکتوبر 2020 سے دھرنی پورٹل کے ذریعے ہونے والی مشتبہ رجسٹریشن، میوٹیشن، زمین کی منتقلی، سرکاری اور اسائنڈ زمینوں کے معاملات، زمین کی نوعیت میں تبدیلی اور دیگر متعلقہ ریکارڈ شامل ہوں گے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے دھرنی پورٹل کے ذریعے ہونے والے مبینہ مشتبہ زمینی لین دین کی مکمل تحقیقات کے لیے اسپیشل انکوائری ٹیم (SET) تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی صدارت میں سکریٹریٹ میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں خشک سالی، آبپاشی، ریلوے، بلدیاتی امور اور دیگر اہم معاملات پر بھی کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
ریاستی وزیر ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے بتایا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد دھرنی پورٹل کا فرانزک آڈٹ کرایا، جس میں 10 ہزار سے زائد مشتبہ زمینی لین دین سامنے آئے۔ اب ان تمام معاملات کی تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔
تحقیقات کے دائرہ کار میں 29 اکتوبر 2020 سے دھرنی پورٹل کے ذریعے ہونے والی مشتبہ رجسٹریشن، میوٹیشن، زمین کی منتقلی، سرکاری اور اسائنڈ زمینوں کے معاملات، زمین کی نوعیت میں تبدیلی اور دیگر متعلقہ ریکارڈ شامل ہوں گے۔
کابینہ نے دھرنی پورٹل تیار کرنے والی ایجنسی کے کردار کی بھی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت سافٹ ویئر ڈیزائن، وینڈر کے انتخاب، کنٹریکٹ دینے کے طریقۂ کار، سسٹم کی ساخت اور ڈیٹا سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا تکنیکی خامیوں یا کسی اور وجہ سے بے ضابطگیاں ہوئیں۔
وزیر ریونیو نے واضح کیا کہ تحقیقات میں جو بھی شخص قصوروار پایا گیا، اس کے خلاف عہدے یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب کابینہ نے ایل نینو کے باعث پیدا ہونے والی خشک سالی جیسی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مرکزی حکومت سے فوری مالی امداد، مرکزی ٹیم کی تعیناتی اور ہنگامی امدادی اقدامات کے لیے تعاون طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ پینے کے پانی، آبپاشی اور بجلی کی فراہمی کے لیے ہنگامی منصوبے تیار کیے جائیں، جبکہ ضلع کلکٹروں کو الرٹ رہنے اور عوامی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
حکومت نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ پانی کی کمی کے پیش نظر دھان کی کاشت سے گریز کریں اور اس کے بجائے کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں کاشت کریں۔
کابینہ نے حیدرآباد–ممبئی، حیدرآباد–بنگلورو اور حیدرآباد–چنئی ہائی اسپیڈ ریل کوریڈورز کے مجوزہ روٹس کا جائزہ لینے کے ساتھ شمشاد آباد کے قریب ریل ہب کے قیام کی منظوری بھی دی۔
اس کے علاوہ مکتیشور لفٹ ایریگیشن اسکیم (منی کالیشورم) کی تکمیل، میونسپل کارپوریشنوں میں ٹرانس جینڈر افراد کو شریک رکن نامزد کرنے، پنچایت راج قانون میں ترمیم، اور دھرم پوری گورنمنٹ ڈگری کالج کے لیے 29 نئی اسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔