تلنگانہ میں طلبہ کی روایتی ڈگری کورسس سے دلچسپی میں کمی، لاکھوں نشستیں خالی، دیہی علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے
تلنگانہ میں ڈگری کالجوں میں داخلوں کے متعدد مراحل مکمل ہونے کے باوجود تقریباً تین لاکھ نشستیں خالی رہ گئی ہیں، جس سے ریاست میں روایتی انڈر گریجویٹ کورسس کے لیے طلبہ کی کم ہوتی دلچسپی واضح ہو گئی ہے۔
حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) تلنگانہ میں ڈگری کالجوں میں داخلوں کے متعدد مراحل مکمل ہونے کے باوجود تقریباً تین لاکھ نشستیں خالی رہ گئی ہیں، جس سے ریاست میں روایتی انڈر گریجویٹ کورسس کے لیے طلبہ کی کم ہوتی دلچسپی واضح ہو گئی ہے۔
تلنگانہ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے مطابق ریاست کے 929 ڈگری کالجوں میں مجموعی طور پر 4,37,809 نشستیں دستیاب تھیں، لیکن جمعرات تک صرف 1,41,143 طلبہ نے داخلہ حاصل کیا۔ ڈیگری آن لائن سروسز تلنگانہ (DOST) کی تین مرحلوں پر مشتمل کاؤنسلنگ کے بعد 780 کالجوں کی 3,71,919 نشستوں میں سے صرف 1,19,016 نشستیں پُر ہو سکیں۔
اسی طرح 79 ویلفیئر ریزیڈنشل ڈگری کالجوں میں 23,834 نشستوں کے مقابلے صرف 9,271 داخلے ہوئے، جبکہ ڈوست نظام سے باہر 70 کالجوں میں 12,856 طلبہ نے داخلہ لیا، جس کے باوجود 42,056 نشستیں خالی رہ گئیں۔
دیہی علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں کئی کالج اپنی منظورہ گنجائش کا 15 فیصد بھی پُر نہیں کر سکے، جبکہ 70 سے زائد کالجوں میں ایک بھی طالب علم نے داخلہ نہیں لیا۔ ریاست کے 580 خانگی ڈگری کالجوں میں صرف 59,615 نشستیں پُر ہوئیں جبکہ 1,88,715 نشستیں خالی رہ گئیں، جو مجموعی خالی نشستوں کا بڑا حصہ ہیں۔
دوسری جانب 36 خودمختار سرکاری کالجوں میں 45,120 نشستوں میں سے 27,434 پر داخلے ہوئے جبکہ 116 سرکاری ڈگری کالجوں میں 31,551 نشستیں خالی رہیں۔
اہرین کے مطابق انجینئرنگ، فارمیسی، بی ایس سی ایگریکلچر، بائیوٹیکنالوجی اور فارم ڈی جیسے پیشہ ورانہ کورسس کی جانب طلبہ کے بڑھتے رجحان اور انٹرمیڈیٹ کامیاب طلبہ کی تعداد کے مقابلے ڈگری نشستوں کی زیادہ دستیابی اس صورتحال کی بنیادی وجوہات ہیں۔