حیدرآباد

حیدرآباد میں ڈیزائنر یا جعلی نمبر پلیٹ لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی، اب ہو سکتا ہے فوجداری مقدمہ

حیدرآباد ٹریفک پولیس نے جعلی، تبدیل شدہ اور ڈیزائنر نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت مہم شروع کر دی ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف اب صرف ٹریفک چالان ہی نہیں بلکہ فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

حیدرآباد: حیدرآباد ٹریفک پولیس نے جعلی، تبدیل شدہ اور ڈیزائنر نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت مہم شروع کر دی ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف اب صرف ٹریفک چالان ہی نہیں بلکہ فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

ٹریفک پولیس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شہر بھر میں چلائی گئی خصوصی مہم کے تحت پانچ فوجداری مقدمات درج کیے گئے، جبکہ کئی گاڑیوں کو ضبط بھی کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسی شکایات میں اضافہ ہوا تھا کہ بعض افراد جعلی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹس لگا کر اپنی گاڑیوں کی شناخت چھپا رہے ہیں، ٹریفک چالان سے بچ رہے ہیں اور قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ مقدمات جوبلی ہلز، ملک پیٹ، بیگم بازار، عابڈس اور کاچی گوڑہ پولیس اسٹیشنوں کی حدود میں درج کیے گئے ہیں۔

حیدرآباد ٹریفک پولیس نے واضح کیا ہے کہ صرف حکومت سے منظور شدہ ہائی سکیورٹی رجسٹریشن پلیٹس (HSRP) ہی قانونی طور پر قابل قبول ہیں۔ نمبر پلیٹ پر غیر معیاری یا آرائشی فونٹس استعمال کرنا، ڈیزائن میں تبدیلی کرنا، رجسٹریشن نمبر کو غلط انداز میں ظاہر کرنا یا اصل نمبر پلیٹ کی جگہ عارضی اسٹیکر لگانا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

پولیس نے تمام گاڑی مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پر مقررہ اصولوں کے مطابق ایچ ایس آر پی نمبر پلیٹس نصب کریں اور ٹریفک قوانین پر مکمل عمل کریں۔

حیدرآباد ٹریفک پولیس نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ جعلی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹس استعمال کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔ ایسے معاملات میں گاڑی فوری طور پر ضبط کی جائے گی اور متعلقہ شخص کے خلاف فوجداری مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خصوصی مہم آئندہ بھی شہر بھر میں جاری رہے گی، تاکہ سڑکوں پر قانون کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے، ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جائے اور گاڑیوں سے متعلق جرائم کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔