مشرق وسطیٰ

دبئی کی ہوٹل انڈسٹری دباؤ میں، خصوصی آفرز کے ذریعے گاہکوں کو متوجہ کرنے کی کوشش

بعض ہوٹلوں نے تزئین و آرائش کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنے دروازے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جبکہ کئی دیگر مالی مشکلات، عملے کی کمی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے مسائل سے دوچار ہیں۔

دبئی  :   ایران کے خلاف جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی سیاحت شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے، جس کے اثرات دبئی کے شاہانہ اور عالمی شہرت یافتہ ہوٹلوں پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
متحدہ عرب امارات میں مسافروں کیلیے ٹریول ایڈوائزری جاری
عرب شاعرڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کی کتاب کی رسم اجرا
دبئی میں گداگروں کے خلاف مہم، پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ اور جیل کی سزا
یوم خواتین پردنیا بھر میں ”عورت مارچ“ کا انعقاد
ثانیہ مرزا کے شاندار کیریر کے اختتام پر ستائشوں کی بوچھاڑ

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی کے متعدد فائیو اسٹار اور لگژری ہوٹل اب اپنی بقا کے لیے مقامی رہائشیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض ہوٹلوں نے تزئین و آرائش کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنے دروازے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جبکہ کئی دیگر مالی مشکلات، عملے کی کمی اور تنخواہوں کی ادائیگی کے مسائل سے دوچار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دبئی کے مشہور سیاحتی علاقے Palm Jumeirah سمیت مختلف مقامات پر قائم لگژری ہوٹلوں نے مقامی شہریوں اور رہائشیوں کے لیے خصوصی رعایتی پیکجز، ویک اینڈ آفرز اور فیملی ڈسکاؤنٹس متعارف کرائے ہیں۔ ان پیشکشوں کے باعث اب متوسط آمدنی رکھنے والے افراد بھی ان ہوٹلوں میں قیام اور تفریحی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جو ماضی میں ان کی پہنچ سے باہر سمجھی جاتی تھیں۔

سیاحتی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال اور جنگی خدشات کے خاتمے تک دبئی سمیت خلیجی ممالک کی سیاحت مکمل بحالی حاصل نہیں کر سکے گی۔ ان کے مطابق ہوٹل انڈسٹری کی موجودہ مشکلات کا حل بین الاقوامی سفر کے اعتماد کی بحالی اور خطے میں امن و استحکام سے مشروط ہے۔