حیدرآباد

چینی مانجھے سے حادثات کی روک تھام کے لیے حیدرآباد پولیس کی بڑی مہم، دو پہیہ گاڑیوں پر سیفٹی راڈز کی تنصیب

شہریوں کو چینی مانجھا کے باعث ہونے والے حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے حیدرآباد پولیس نے ایک اہم حفاظتی مہم کا آغاز کیا ہے۔

حیدرآباد: شہریوں کو چینی مانجھا کے باعث ہونے والے حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے حیدرآباد پولیس نے ایک اہم حفاظتی مہم کا آغاز کیا ہے۔ ساؤتھ زون ڈی سی پی کرن پربھاکر کارے کی قیادت میں دو پہیہ گاڑیوں پر چینی مانجھا سیفٹی راڈز نصب کرنے کی خصوصی مہم شروع کی گئی، جس کا مقصد گردن اور چہرے کو جان لیوا کٹ لگنے کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں
مائناریٹی ریسڈنشل کی طالبہ آسیہ نے کراٹے میں گنیز، لمکا اور تیلگو بک آف ریکارڈز میں نام درج کرایا
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے میڈارم کا دو روزہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا
انڈین یونین مسلم لیگ تلنگانہ ریاستی پریپریٹری میٹنگ بلدیاتی انتخابات سے قبل حیدرآباد جی ایچ ایم سی آفس بہادر پورہ آفس میں منعقد
معاشرے میں بڑھتے ہوئے قتل و نشہ کی لت تشویشناک، محبت رسول کے ماحول کی ضرورت
کانگریس لیڈر عثمان بن محمد الہاجری کا یو پی ایچ سی کاروان-1 کا دورہ، مفت علاج و ادویات کا جائزہ

اس مہم کے تحت سینکڑوں موٹر سائیکل اور اسکوٹر سواروں میں سیفٹی راڈز مفت تقسیم کیے گئے اور کئی گاڑیوں پر موقع پر ہی یہ حفاظتی آلات نصب کیے گئے۔ پولیس اہلکاروں نے سواروں کو بتایا کہ یہ راڈز تیز دھار مانجھا کے اچانک لگنے کی صورت میں فوری رکاوٹ بن کر شدید چوٹ سے بچاتے ہیں۔

یہ پروگرام اولڈ سٹی حیدرآباد کے میر چوک جنکشن پر منعقد کیا گیا، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں ٹریفک گزرتی ہے۔ پولیس نے عوام سے بات چیت کے دوران چینی مانجھا کے خطرات پر آگاہی بھی دی اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ممنوعہ مانجھا کے استعمال اور فروخت سے اجتناب کریں۔

ڈی سی پی کرن کھیرے نے کہا کہ ماضی میں چینی مانجھا کے سبب کئی سنگین حادثات پیش آ چکے ہیں، اس لیے احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دو پہیہ گاڑیوں پر سیفٹی راڈز لگوانا اور غیر قانونی مانجھا کی اطلاع پولیس کو دینا شہری ذمہ داری ہے۔

حیدرآباد پولیس کے مطابق اس طرح کی حفاظتی اور آگاہی مہمات شہر کے مختلف علاقوں میں جاری رہیں گی تاکہ چینی مانجھا سے ہونے والے حادثات کو روکا جا سکے اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔