تلنگانہ

ایس آئی آر فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ قریب، محمد سلیم کی عوام سے فوری اندراج کی اپیل

سابق رکن قانون ساز کونسل اور تلنگانہ وقف بورڈ کے سابق صدر محمد سلیم نے ریاست کے عوام، بالخصوص اقلیتی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی عمیق نظرثانی (Special Intensive Revision - SIR) کے تحت اپنے اینومریشن فارم بروقت جمع کرائیں، کیونکہ اس عمل کی آخری تاریخ 10 اگست مقرر کی گئی ہے اور اس میں مزید توسیع کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

حیدرآباد: سابق رکن قانون ساز کونسل اور تلنگانہ وقف بورڈ کے سابق صدر محمد سلیم نے ریاست کے عوام، بالخصوص اقلیتی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی عمیق نظرثانی (Special Intensive Revision – SIR) کے تحت اپنے اینومریشن فارم بروقت جمع کرائیں، کیونکہ اس عمل کی آخری تاریخ 10 اگست مقرر کی گئی ہے اور اس میں مزید توسیع کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں محمد سلیم نے کہا کہ 5 اگست تک کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں رجسٹرڈ 3,38,26,448 رائے دہندگان میں سے صرف 2,63,05,904 (77.77 فیصد) افراد کے اینومریشن فارم ڈیجیٹائز کیے جا سکے ہیں، جبکہ 75,20,544 رائے دہندگان اب بھی اپنے فارم جمع نہیں کرا سکے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر حیدرآباد اور اس کے اطراف کے اضلاع میں فارم جمع کرانے کی سست رفتار پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، حیدرآباد میں 47,36,669 رجسٹرڈ ووٹروں میں سے صرف 27,33,895 (57.72 فیصد) افراد کے فارم ڈیجیٹائز ہوئے ہیں، جبکہ 20,02,774 (42.28 فیصد) ووٹر اب تک اندراج کے عمل سے محروم ہیں۔

اسی طرح میڑچل-ملکاجگری ضلع میں صرف 62.75 فیصد جبکہ رنگا ریڈی ضلع میں 64.46 فیصد ووٹروں کے اینومریشن فارم جمع ہو سکے ہیں، جو تشویش کا باعث ہے۔

محمد سلیم نے خبردار کیا کہ جو رائے دہندگان مقررہ مدت کے اندر اپنا اندراج مکمل نہیں کریں گے، وہ نہ صرف مستقبل میں اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں بلکہ انہیں قانونی پیچیدگیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، ملی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عوامی نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوام میں شعور بیدار کریں، فارم جمع کرانے کے عمل میں رہنمائی فراہم کریں اور جن افراد نے ابھی تک اندراج نہیں کرایا ہے، انہیں بی ایل اوز (BLOs) سے رابطہ کرکے مقررہ مدت کے اندر اپنا اندراج مکمل کرانے میں تعاون کریں۔