حیدرآباد

حکومت کو 6 گارنٹیز کے نفاذ کیلئے مشکل صورتحال کا سامنا

اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس نے عوام سے 13اہم وعدے کئے تھے جو گارنٹیز کا حصہ ہیں۔ ان تمام وعدوں کو روبعمل لانے کیلئے حکومت کو ہرسال ایک لاکھ کروڑ روپے درکار ہوں گے۔

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں کانگریس کی6 ضمانتوں کو نافذ کرنے کیلئے دی گئی آخری مہلت ختم ہونے میں ابھی صرف3ہفتوں کا وقت باقی رہ گیا مگر تلنگانہ کی کانگریس حکومت کیلئے انتخابی وعدوں کو پورا کرنا ایک بڑے چیالنج سے کم نہیں ہے۔ 70 یوم قبل ریاست کی عنان حکومت سنبھالنے والی کانگریس تاحال صرف 2 ضمانتوں کو نافذ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

متعلقہ خبریں
راجیہ سبھا کی مخلوعہ نشست کیلئے ہنمنت راؤ دعویدار
دھان کی خریداری میں دھاندلیوں کی سی بی آئی جانچ کروائے گی:بی جے پی
رئیل اسٹیٹ ونچرکی آڑ میں چلکور کی قطب شاہی مسجد کو شہید کردیاگیا: حافظ پیر شبیر احمد
جمعہ کی نماز اسلام کی اجتماعیت کا عظیم الشان اظہار ہے: مولانا حافظ پیر شبیر احمد
10سال سے ملک کی آواز ہم نے نہیں آپ نے سلب کر رکھی تھی، مودی پر کانگریس کا پلٹ وار

یہ دو ضمانتیں 6 گارنٹیز کا حصہ ہیں۔ لوک سبھا انتخابات، کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تاہم اندرون ہفتہ مزید2ضمانتوں کو نافذ کرنے کا اعلان  کیا ہے۔ 1.29 کروڑ درخواست گزاروں میں سے استفادہ کنندگان کی شناخت اور مابقی ضمانتوں پر عمل آوری جو 6گارنٹیز کا حصہ ہیں، حکومت کے لئے بہت بڑا چیالنج ہے۔

 اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس نے عوام سے 13اہم وعدے کئے تھے جو گارنٹیز کا حصہ ہیں۔ ان تمام وعدوں کو روبعمل  لانے کیلئے حکومت کو ہرسال ایک لاکھ کروڑ روپے درکار ہوں گے۔

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے چہارشنبہ کے روز اعلان کیا تھا ان کی حکومت ایک ہفتہ کے اندر ماہانہ200 یونٹ برقی کی مفت فراہمی اور500 روپے میں گیس سلنڈر کی سربراہی (2ضمانتوں) کو نافذ کرے گی۔ ان دو ضمانتوں پر عمل آوری کے افتتاح کیلئے کانگریس پرینکا گاندھی کو مدعو کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

 ایسا لگتا ہے کہ یہ پروگرام، ریاست میں لوک سبھا الیکشن کی انتخابی مہم کا آغاز ہوگا۔ ریونت ریڈی نے بھی اعلان کیا تھا کہ15 مارچ سے رعیتو بھروسہ کو نافذ کریا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت کانگریس حکومت نے ہر سال کسانوں کو فی ایکڑ 15 ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔

جبکہ پیشرو حکومت رعیتو  بندھو اسکیم کے تحت ہر سال فی ایکڑ10 ہزار روپے کی مالی مدد فراہم کرتی تھی۔حلقہ اسمبلی کوڑنگل کے کوسگی کے مقام پر منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے2ضمانتوں کو ایک ہفتہ کے اندر نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

 بتایا جاتا ہے کہ 6 گارنٹیز پر عمل آوری میں تاخیر پر اپوزیشن جماعتوں کی حکمراں جماعت پرشدید تنقید کے بعد چیف منسٹر نے یہ اعلان کیا ہے۔اپوزیشن بی آرایس اور بی جے پی دونوں لوک سبھاکے مجوزہ الیکشن میں گارنٹیز کو ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرناچاہتی ہیں۔

کانگریس نے 6گارنٹیز کو اندرون 100 دن نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا یہ مہلت 17 مارچ کو ختم ہونے والی ہے۔ اس طرح حکمراں جماعت کانگریس پر اس معاملہ پر دباؤبڑھتا جارہا ہے۔

خط غربت سے نیچے (بی پی ایل) زندگی بسر کرنے والی ہر خاتون کو ماہانہ 2500 روپے کی امداد، زرعی مزدوروں کو سالانہ12ہزار روپے کی مالی مدد، دھان کی فصل پر اقل ترین امدادی قیمت پر فی کنٹل 500 روپے بونس دینا، امکنہ اراضیات، غریبوں کو امکنہ کی تعمیر کیلئے فی کس5لاکھ روپے، معمر شہریوں کو ماہانہ فی کس4ہزار روپے وظیفہ دینا، ہر طالب علم کوودیا بھروسہ کا رڈ کے تحت5لاکھ روپے کی امداد، اور دیگر بڑے وعدے ان6 گارنٹیز میں شامل ہیں۔

نئی حکومت نے حلف برداری کے فوری بعد 2ضمانتوں کو جن میں آر ٹی سی بسوں میں خواتین کو سفر کی مفت سہولت اور آروگیہ شری کے تحت علاج و معالجہ کی حد5لاکھ روپے سے بڑھا کر10لاکھ روپے کرنا شامل ہے، نافذ کیا ہے۔

برسر اقتدار آنے کے بعد کانگریس حکومت نے ریاست کے مالیاتی موقف پر قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا کہ بی آرایس نے اپنے 10 سالہ دور حکومت میں تلنگانہ کی مالی صورتحال کو تباہ کردیا تھا۔ کانگریس حکومت کو وراثت میں 6.71  لاکھ کروڑ روپے کا قرض ملا ہے۔ ان تمام حالات کے باوجود کانگریس حکومت 100 دونوں کے اندر تمام 6گارنٹیز کو نافذ کرنے کے وعدہ پر بدستور قائم ہے۔

 حکومت نے مالیاتی سال2024-25 کا علی الحساب بجٹ پیش کیا جس میں 6 گارنٹیز پر عمل آوری کیلئے53196 کروڑ روپے مختص کئے۔ بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی آر نے کہا کہ 6ضمانتوں کے نفاذ کیلئے سالانہ 1.25 لاکھ کروڑ روپے درکار ہوں گے۔

 مگر حکومت نے بجٹ میں صرف 53196 کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔ کم رقم مختص کرنا ضمانتوں کے وعدوں کو پورا کرنے سے متعلق حکومت کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ کے ٹی آر نے یہ بات کہی۔

a3w
a3w