جرائم و حادثاتقومی

مُردوں کے کفن و کپڑوں کی خرید و فروخت کا شرمناک دھندا بے نقاب۔ گروہ کا پردہ فاش

ان کپڑوں کو باقاعدہ دھویا اور استری (Iron) کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل نئے نظر آئیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کپڑوں کی نیلامی شمشان گھاٹ کے اندر ہی ہوتی ہے، جہاں سے تاجر انہیں اونچی قیمتوں پر بیچنے کے لیے خریدتے ہیں۔

اندور/ احمد آباد: مدھیہ پردیش کے شہر اندور سے ایک ایسا لرزہ خیز اور غیر انسانی معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ ایک اسٹنگ آپریشن (خفیہ کارروائی) کے ذریعے انکشاف ہوا ہے کہ اندور کے شمشان گھاٹوں پر مردوں کے جسم سے اتارنے والے کپڑوں کو جمع کر کے، انہیں دھو کر ‘نئے لباس’ کے طور پر مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ کوئی معمولی چوری نہیں بلکہ ایک منظم گروہ ہے جس کے تار اندور سے احمد آباد تک جڑے ہوئے ہیں۔

شمشان گھاٹ کے ملازمین اور ایجنٹ آخری رسومات کے دوران لاشوں پر چڑھائے گئے قیمتی کپڑے، شالیں اور زیورات چوری کر لیتے ہیں۔

ان کپڑوں کو باقاعدہ دھویا اور استری (Iron) کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل نئے نظر آئیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کپڑوں کی نیلامی شمشان گھاٹ کے اندر ہی ہوتی ہے، جہاں سے تاجر انہیں اونچی قیمتوں پر بیچنے کے لیے خریدتے ہیں۔

اس گھناؤنا کاروبار میں انسانی جذبات کی قیمت انتہائی معمولی لگائی گئی ہے۔ اسٹنگ آپریشن (خفیہ کارروائی) میں سامنے آنے والی قیمتیں :

شال 20 سے 40 روپے
کرتا پاجامہ 45 روپے
شرٹ اور پینٹ 50 روپے
ساڑھی (بغیر لیس) 70 روپے
ساڑھی (لیس والی) 80 روپے
یہ کپڑے بعد ازاں مارکیٹ میں اصل قیمت سے چار گنا زائد داموں پر فروخت کیے جاتے ہیں۔

مُردوں کے استعمال شدہ کپڑوں کو بغیر کسی طبی احتیاط کے دوبارہ مارکیٹ میں لانا خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مقامی عوام اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث تمام افراد اور تاجروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی ہمت نہ کر سکے۔