چلتی رکشہ میں لڑکی سے چھیڑ چھاڑ، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی بڑی کارروائی (ویڈیو)
یہ واقعہ وارانسی کی ایک مصروف سڑک پر پیش آیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار کچھ نوجوان ایک آٹو رکشہ کا پیچھا کر رہے ہیں جس میں ایک لڑکی سوار ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف رکشہ کے ساتھ ساتھ بائیک چلا رہے تھے اور اسے مسلسل ہراساں کر رہے تھے۔
وارانسی: اتر پردیش کے شہر وارانسی سے ایک افسوسناک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس میں موٹر سائیکل سوار چند شرپسند نوجوانوں کو ایک آٹو رکشہ میں سفر کرنے والی لڑکی کو ہراساں کرتے اور نازیبا تبصرے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے خواتین کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق، یہ واقعہ وارانسی کی ایک مصروف سڑک پر پیش آیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار کچھ نوجوان ایک آٹو رکشہ کا پیچھا کر رہے ہیں جس میں ایک لڑکی سوار ہے۔ یہ نوجوان نہ صرف رکشہ کے ساتھ ساتھ بائیک چلا رہے تھے اور اسے مسلسل ہراساں کر رہے تھے۔
ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی وارانسی پولیس حرکت میں آگئی۔ ڈی سی پی وارانسی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "مذکورہ معاملے کا نوٹ لیتے ہوئے ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔”
پولیس نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملوث افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
سوشل میڈیا صارفین اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سرِ عام اس طرح کی حرکتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ان "روڈ سائیڈ رومیو” کے دلوں میں قانون کا کوئی خوف نہیں۔
صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کو "معمولی چھیڑ چھاڑ” سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اسے جرم کے طور پر دیکھا جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ جب تک ان جیسے افراد کو نشانِ عبرت نہیں بنایا جائے گا، تب تک خواتین خود کو عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کرتی رہیں گی۔
اگرچہ پولیس نے فوری کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر انتظامیہ اور معاشرے کے سامنے یہ سوال رکھ دیا ہے کہ بیداری مہم اور سخت قوانین کے باوجود خواتین کے خلاف ایسے جرائم کیوں نہیں رک رہے۔