قومی

سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا: الیکشن کمشنرز کی تقرری کے عمل میں کوئی آزاد رکن کیوں نہیں؟

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ "کمیشن کا صرف آزاد ہونا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اسے آزاد نظر بھی آنا چاہیے۔" یہ تلخ ریمارکس 'چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، شرائطِ ملازمت اور مدتِ کار) ایکٹ، 2023' کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کے عمل میں ‘آزادی کی شفافیت’ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر سخت سوالات اٹھائے۔

متعلقہ خبریں
الیکشن کمیشن کا ووٹر آئی ڈی کو آدھار سے جوڑنے کا فیصل کیا ووٹنگ نظام مزید شفاف ہوگا؟
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
وزیراعظم۔ وزیر داخلہ کی جوڑی نے الیکشن کمیشن کی آزادی ختم کردی: کانگریس
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
بی جے پی کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت

عدالت نے ریمارکس دیے کہ تین رکنی سلیکشن پینل میں وزیر اعظم کے ساتھ ایک مرکزی کابینہ کے وزیر کی موجودگی سے اپوزیشن لیڈر کا کردار محض ایک خانہ پوری یا ‘دکھاوٹی’ بن کر رہ جاتا ہے۔


جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے کہا کہ جب سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ڈائریکٹر کے سلیکشن پینل میں چیف جسٹس آف انڈیا شامل ہوتے ہیں، تو پھر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کے انتخاب کے عمل میں کوئی آزاد رکن کیوں نہیں رکھا گیا؟ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن کی آزادی نہ صرف اس کے کام کاج بلکہ عوامی تاثر میں بھی نظر آنی چاہیے۔


عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ "کمیشن کا صرف آزاد ہونا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اسے آزاد نظر بھی آنا چاہیے۔” یہ تلخ ریمارکس ‘چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، شرائطِ ملازمت اور مدتِ کار) ایکٹ، 2023’ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔


سماعت کے دوران عدالت نے بارہا اس نکتے کو اجاگر کیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا موجودہ نظام آئین کی دفعہ 324 کے تحت ایک آزاد الیکشن کمیشن کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، خاص طور پر جب آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد آئین کے ‘بنیادی ڈھانچے’ کا حصہ ہے۔


وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کے نامزد کردہ ایک کابینہ وزیر پر مشتمل پینل کی تشکیل پر سوال اٹھاتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس عمل میں حقیقت میں کسی بھی آزاد رکن کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔


جسٹس دتا نے نشاندہی کی کہ سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری میں بھی چیف جسٹس پینل کا حصہ ہوتے ہیں، جبکہ سی بی آئی کا تعلق بنیادی طور پر فوجداری تحقیقات سے ہے۔

عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ الیکشن کمشنرز کی تقرریوں میں ایسا آزاد رکن کیوں غائب ہے، جن کا براہِ راست تعلق ملک میں جمہوری اور انتخابی شفافیت کو برقرار رکھنے سے ہے۔


جب اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی نے تسلیم کیا کہ عملی طور پر پینل میں شامل کابینہ وزیر عام طور پر وزیر اعظم سے الگ رائے نہیں رکھتے، تو عدالت نے کہا کہ اس سے انتخاب کے عمل کا مکمل کنٹرول حکومت (ایگزیکٹو) کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر کو شامل کرنے کے منطق پر بھی سوال اٹھایا، اگر فیصلے ہمیشہ حکومت کے حق میں 2:1 کی اکثریت سے ہی ہونے ہیں۔