امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی چاہتا ہے :مارکو روبیو
کویت کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت امریکہ اور عالمی برادری کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تزویراتی گزرگاہ کو بند کرنے یا جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کے پاس متبادل حکمت عملی موجود ہے۔
کویت: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی چاہتا ہے اور اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا فیس قبول نہیں کی جائے گی۔
کویت کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت امریکہ اور عالمی برادری کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تزویراتی گزرگاہ کو بند کرنے یا جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کے پاس متبادل حکمت عملی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت آئندہ 60 دنوں کے دوران عملی مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ تہران اپنے تمام وعدوں پر عمل کرے گا۔
روبیو کے مطابق دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں اس وقت معاہدے پر عمل درآمد کی تفصیلات کو حتمی شکل دے رہی ہیں، جبکہ جوہری پروگرام اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق مذاکرات کا اگلا دور 29 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ جوہری افہام و تفہیم اور پابندیوں سے متعلق معاملات طے شدہ اصولوں کے مطابق آگے بڑھیں اور ایران معاہدے کی تمام شقوں کی پاسداری کرے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے خلیجی اتحادی ممالک کی سلامتی متاثر ہو، کیونکہ خطے کی سلامتی مستقبل میں ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی انتظام کا بنیادی جزو رہے گی۔
لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور واشنگٹن میں جاری ہے اور امریکہ کو ان مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ لبنانی ریاست اپنی پوری سرزمین پر مؤثر حکمرانی قائم کرے اور اسی مقصد کے لیے لبنانی ریاستی اداروں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔
روبیو کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی کو حزب اللہ سے لاحق سکیورٹی خدشات سے جوڑتا ہے، جبکہ موجودہ مذاکرات کا مقصد ان تمام مسائل کا جامع سیاسی اور سکیورٹی فریم ورک کے تحت حل تلاش کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی سرپرستی میں جاری براہِ راست مذاکرات میں لبنان جنوبی علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے لیے واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے معاملے کو بھی شامل کرنے پر زور دے رہا ہے۔