امریکہ و کینیڈا

ایران نے آبنائے ہرمز میں فیس نہ لینے کی یقین دہانی کرائی، مذاکرات میں بڑی رعایتیں: ٹرمپ

امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے جاری کی جانے والی رقم کسی نئی مالی امداد کے مترادف نہیں ہوگی بلکہ واشنگٹن کی نگرانی میں موجود ایرانی فنڈز کا ایک حصہ صرف امریکی زرعی اجناس، ادویات اور دیگر امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے جاری کیا جائے گا۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں بڑی رعایتیں دے رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے افہام و تفہیم پر عمل درآمد کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔
خبر:


صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مذاکرات میں واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہے اور ایران ان تمام امور پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے جن پر واشنگٹن زور دے رہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ایران ہر اس بات پر اتفاق کر رہا ہے جو امریکہ چاہتا ہے اور انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق گزشتہ ہفتے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے حوالے سے جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔


امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے جاری کی جانے والی رقم کسی نئی مالی امداد کے مترادف نہیں ہوگی بلکہ واشنگٹن کی نگرانی میں موجود ایرانی فنڈز کا ایک حصہ صرف امریکی زرعی اجناس، ادویات اور دیگر امریکی مصنوعات کی خریداری کے لیے جاری کیا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی فیس یا اضافی اخراجات عائد نہیں کیے جائیں گے، تاہم اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو مذاکرات فوری طور پر روک دیے جائیں گے۔


دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو امریکی مصنوعات کی خریداری سے مشروط نہیں کیا گیا۔


اسی طرح ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے بھی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ جاری کیے جانے والے فنڈز صرف امریکی اشیا کی خریداری پر خرچ ہوں گے۔


دونوں ممالک کے درمیان جوہری معائنوں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے کردار اور 60 روزہ مدت مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔


یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 18 جون کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں جوہری پروگرام، بعض امریکی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی بحالی سمیت متعدد امور شامل ہیں، جبکہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں رواں ماہ کے آخر میں سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے اگلے دور کی تیاری کر رہی ہیں۔