حیدرآباد

ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے خواجہ سرا کو ویران مقام لے جا کر تشدد، ایک گرفتار—دو مفرور

آن لائن ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے بلوا کر، ویران مقام پر لے جاکر تین افراد نے نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ اس پر تشدد بھی کیا۔

حیدرآباد: حبیب نگر پولیس اسٹیشن حدود میں ایک ٹرانس جینڈر پر حملہ کیے جانے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ آن لائن ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے بلوا کر، ویران مقام پر لے جاکر تین افراد نے نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ اس پر تشدد بھی کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو افراد تاحال مفرور ہیں۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
اردو زبان عالمی سطح پر مقبول، کالج آف لینگویجز ملے پلی میں کامیاب سمینار کا انعقاد
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور

پولیس کے مطابق، ملزمان نے ٹرانس جینڈر سے گرینڈر (Grindr) ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے رابطہ کیا اور ملاقات کے بہانے اسے اپنے پاس بلوایا۔ حملے میں ملوث تین افراد کی شناخت اس طرح کی گئی ہے:

  1. ریان عرف فہاد — افضل ساگر کے ایک ایم آئی ایم رہنما کا بیٹا
  2. عفان عرف جعفر
  3. احمد

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان متاثرہ شخص کو ایک سنسان مقام پر لے گئے، جہاں انہوں نے نہ صرف نازیبا رویہ اختیار کیا بلکہ اسے ₹30,000 ادا کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا۔ رقم دینے سے انکار کرنے پر تینوں نے ٹرانس جینڈر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں اسے چوٹیں بھی آئیں۔

متاثرہ ٹرانس جینڈر کی شکایت پر حبیب نگر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کیا۔ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ باقی دو افراد فرار ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تلاش میں مصروف ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر سخت کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔