قومی

مغربی بنگال میں بکھالی ساحل کے قریب ٹرالر ڈوب گیا، نو ماہی گیروں کی لاشیں برآمد، وزیرِ اعظم مودی نے معاوضے کا اعلان کیا

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم قومی امدادی فنڈ (پی ایم این آر ایف) سے ہر متوفی کے لواحقین کو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے بطور امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سمندر میں لاپتا مزید چھ ماہی گیروں کی تلاش کے لیے جنگی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

کولکاتا: مغربی بنگال کے ضلع جنوبی 24 پرگنہ کے بکھالی ساحل کے قریب ایک ہفتے سے زائد عرصے سے لاپتا ایک ماہی گیر ٹرالر کے ڈوبنے سے نو ماہی گیروں کی موت ہو گئی۔


وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم قومی امدادی فنڈ (پی ایم این آر ایف) سے ہر متوفی کے لواحقین کو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے بطور امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر سمندر میں لاپتا مزید چھ ماہی گیروں کی تلاش کے لیے جنگی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔


ابتدائی تحقیقات کے مطابق خلیجِ بنگال میں خراب موسم کے دوران ٹرالر الٹ گیا، جس کے باعث ماہی گیر سمندر میں گر گئے۔ تاہم حادثے کی اصل وجہ کا تعین تفصیلی تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔


‘ماں کالی’ نامی یہ ٹرالر 2 جولائی کو مشرقی مدناپور کے دیگھا واقع شنکھ پور ماہی گیری بندرگاہ سے 15 ماہی گیروں کو لے کر معمول کے مطابق مچھلی پکڑنے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ حکام کے مطابق 5 جولائی کے بعد ٹرالر سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد بھارتی کوسٹ گارڈ، پولیس، محکمہ جنگلات اور مقامی ماہی گیروں کی مدد سے بڑے پیمانے پر تلاش مہم شروع کی گئی۔


آٹھ دن کی مسلسل تلاش کے بعد ڈوبا ہوا ٹرالر بکھالی ساحل سے تقریباً 35 کلومیٹر دور ‘باگھیر چر’ کے قریب ملا۔ اتوار کی دوپہر گوبردھن پور پولیس اسٹیشن، محکمہ جنگلات اور بھارتی کوسٹ گارڈ نے ٹرالر کی شناخت کی، جس کے بعد اسے جنوبی 24 پرگنہ کے سیتارام پور تک کھینچ کر لایا گیا۔


ریسکیو اہلکاروں نے پوری رات ٹرالر کے اندر پھنسے ہوئے افراد کی لاشیں نکالنے کا کام جاری رکھا۔ اب تک نو لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جنہیں پوسٹ مارٹم کے لیے کاک دوئیپ سب ڈویژنل اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔