حیدرآباد

وجئے شانتی نے بی آر ایس اور بی جےپی پر تنقیدوں کے انبار لگادیئے

وجئے شانتی نے کہاکہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں مہینوں اور سالوں گزر نے کے بعد بھی کے سی آر حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

حیدرآباد: سابق رکن پارلیمنٹ و تلگوفلم اداکار ہ وجئے شانتی نے کہا ہے کہ بی جے پی سے ان کی علیحدگی کی وجہ بدعنوان کے سی آر حکومت کے خلاف عدم کارروائی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کئی مرتبہ کے سی آر حکومت پر بدعنوانیوں اور کرپشن کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں
امیت شاہ کا جعلی ویڈیومعاملہ، 27 مقدمات درج
خواتین کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وزیراعظم لب کشائی پر مجبور :اسد اویسی
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
کانگریس اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت:امیت شاہ
یہ الیکشن مذہب کے تحفظ کا ہے:شاہ (ویڈیو)

 یہاں تک کہ کالیشورم پروجیکٹ کو کے ٹی آر خانداندان کیلئے اے ٹی ایم قرار دیا گیا۔ امیت شاہ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں مہینوں اور سالوں گزر نے کے بعد بھی کے سی آر حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

 بی جے پی قیادت نے کارکنوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بدعنوان کے سی آر کے خلاف کاروائی کریں گے اور ہم اس یقین کے ساتھ بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ لیکن بی جے پی اور بی آر ایس میں اندرونی ساز ب از ہوچکی ہے۔

بی جے پی قائدین عوام کے سامنے بی آر ایس پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد کرتے ہیں لیکن پردہ کے پیچھے دونوں ایک ہی ہیں۔ انتخابات میں آخری وقت تک امیدواروں کا اعلان نہیں کیا گیا، الیکشن سے 4ماہ قبل ہی بی جے پی صدر بنڈی سنجے کو اچانک ہٹا دیا گیا۔

4ماہ قبل جب کسی پارٹی کے صدر کو ہٹا یا جاتا ہے اس پارٹی کی کیا حالت ہوگی۔ وہ پارٹی تباہ ہوجائے گی۔ تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پرانے دوستوں میں آکر انہیں خوشی محسوس ہورہی ہے۔

 وجئے شانتی آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 25 سال سے سیاست سے وابستہ ہیں۔ تلنگانہ تحریک میں بھی انہوں نے سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی تلنگانہ کے مسائل کو زیر بحث لایا ہے۔ وجئے شانتی نے سوال کیا کہ بی جے پی حکومت نے الیشورم پروجیکٹ پر کوئی کاروائی کیوں نہیں کی۔ میڈی گڈہ کے ستون گرنے کے باوجود بی جے پی نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ کیا آپ معاہدے کے مطابق خاموشی اختیار کی ہے؟۔

 انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو میری توہین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ میں پیسے اور عہدوں کیلئے ہتھیار ڈالنے والی نہیں ہوں۔ ہمارے گرو اڈوانی نے کہا تھا سیاست کی قیمت ہے، لیکن آج کے بی جے پی قائدین کے پاس دیانتدار قائدین ک ی کوئی قدر نہیں ہے۔

بعض قائدین کے ان کے ساتھ نازیبا ریمارکس کئے ہیں۔ انہیں اپنے منہ قابو میں رکھنا چاہئے۔ اسمبلی انتخابات میں ہر طرف کانگریس کی لہر چل رہی ہے۔ عوام بی جے پی اور بی آر ایس حکومتوں سے نالاں ہوچکے ہیں اور کانگریس کو برسراقتدار لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اب کانگریس کی انتخابی مہم میں مصروف ہوجائیں گی۔