حیدرآباد

کیا حائیڈرا چارمینار اور ہائیکورٹ کو بھی منہدم کردے گا، رنگناتھ سے عدالت کے چبھتے سوالات

عدالت نے برہمی کے عالم میں رنگناتھ نے سے سوال کیا کہ کیا وہ چارمینار اور ہائی کورٹ کو بھی منہدم کر دیں گے؟ جج نے انہیں سختی سے متنبہ کیا کہ اگر حائیڈرااسی طرح جاری رہی تو انہیں اسٹے دینا پڑے گا، کیونکہ عوام کی رائے ہے کہ گرانے کے سوا کوئی اور پالیسی نہیں۔

حیدرآباد: ہائی کورٹ نے حائیڈرا کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر یہ جان کر کہ عمارت خالی کرنے کا نوٹس دینے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی انہدام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر حائیڈرا نے غیر قانونی کارروائی کی تو انہیں گھر بھیج دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
تربیت، تفریح اور تخلیق کا حسین امتزاج،عیدگاہ اجالے شاہ سعیدآباد پر سی آئی او کے رنگا رنگ چلڈرن فیسٹیول کا انعقاد
ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی

عدالت نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی عمارت کو گرانے سے پہلے مالک کو آخری موقع دینا ضروری ہے، اور اس سلسلے میں انہوں نے تحصیلدار کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی احکامات کی پاسداری کریں۔ جج نے رنگناتھ سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ اتوار کو ہونے والا انہدام ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف تھا۔

عدالت نے برہمی کے عالم میں رنگناتھ نے سے سوال کیا کہ کیا وہ چارمینار اور ہائی کورٹ کو بھی منہدم کر دیں گے؟ جج نے انہیں سختی سے متنبہ کیا کہ اگر حائیڈرااسی طرح جاری رہی تو انہیں اسٹے دینا پڑے گا، کیونکہ عوام کی رائے ہے کہ گرانے کے سوا کوئی اور پالیسی نہیں۔  یہ معاملہ عوامی تحفظ کے نام پر معصوم لوگوں کو مشکلات میں ڈالنے کا بھی باعث بنا ہے، جس پر عدالت نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔