حیدرآباد

سفارشات کے ساتھ گورنر نے آر ٹی سی بل کی منظوری دے دی

گورنر نے اس بات کی بھی سفارش کی کہ حکومت کو اے پی ایس آر ٹی سی سے تمام بقایہ جات کی یکسوئی کی ذمہ داری لینے کی وضاحت کرنی چاہئے۔

حیدرآباد: گورنر تلنگانہ ڈاکٹر تمیلی سائی سوندرا راجن نے اتوار کے روز آخر کار تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن(ٹی ایس آر ٹی سی) کے حکومت میں انضمام کی بل2023 کو منظوری دیتے ہوئے اس بل کو تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں متعارف کرانے کی راہ ہموار کردی ہے۔

متعلقہ خبریں
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
سکندرآباد اور پٹن چیرو کے درمیان اے سی بسیں چلانے کا اعلان
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر

 اس معاملہ پر گزشتہ تین دنوں سے جاری تجسس کو ختم کرتے ہوئے گورنر نے آج ٹی ایس آر ٹی سی بل کو منظوری دے دی۔ اتوار کی سہ پہر کو حمل ونقل اور آر اینڈ بی محکمہ جات کے عہدیداروں کے اجلاس میں گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے آرٹی سی بل کو منظوری دے دی۔

 قبل ازیں انہوں نے حکومت سے چندامور پر وضاحت طلب کی۔ انہوں نے ریاست حکومت سے10 سفارشات پر اس بل پر دستخط کئے گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن نے سفارش کی کہ آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کے ساتھ انضمام کے باوجود اراضیات، اثاثہ جات اور ملکیت کارپوریشن کے پاس واحد استعمال کیلئے ہونا چاہئے اس سلسلہ میں حکومت کو واضح اعلان کرنا چاہئے۔

 انہوں نے سفارش کی کہ آر ٹی سی کے اثاثہ جات تقسیم ہونا چاہئے۔ اور اے پی تنظیم جدید ایکٹ کے تحت تلنگانہ اور اے پی میں اثاثوں کی تقسیم کا عمل مکمل کرنا چاہئے۔ گورنر نے اس بات کی بھی سفارش کی کہ حکومت کو اے پی ایس آر ٹی سی سے تمام بقایہ جات کی یکسوئی کی ذمہ داری لینے کی وضاحت کرنی چاہئے۔

 انہوں نے مزید سفارش کی کہ بعد انضمام آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کی طرح پے اسکیل، سرویس رول، ریگولیشن، تنخواہیں، ترقی و تبادلے، وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد وظائف یا پروایڈمنٹ فنڈس اور دیگر گریجویٹی و دیگر فوائد ملنے چاہئے۔

 انہوں نے سفارش کی کہ حکومت میں پہلے سے ضم ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین کو یہ سہولت ملنی چاہئے کہ سرویس کیلئے ان فٹ ہونے پر ملازمین کو بطی بنیاد پر خاندان کے کسی فرد کو ان کی جگہ نوکری دی جائے گی۔ آر ٹی سی میں تادیبی کارروائی سخت ہوتی ہے اس تادیبی کارروائی کے عمل کو مزید سہل (رحمدل) بنانے کی انہوں نے سفارش کی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ دیگر محکموں کے سرکاری ملازمین کی طرح آر ٹی سی کے ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی، سرویس رولس کے تحت کی جانی چاہئے۔ گورنر نے سفارش کی کہ اگر آر ٹی سی ملازمین کو بعد انضمام دیگر محکموں کو ڈیپوٹیشن پر روانہ کیا جاتا ہے تو ان ملازمین کے گریڈ، پے، تنخواہیں، ترقی و غیرہ کا تحفظ ہونا چاہئے۔

 ان ملازمین کو ترقی وتبادلے کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ حکومت نے چہارشنبہ کے روز آر ٹی سی بل کا مسودہ جو ایک مالیاتی بل ہے۔ منظوری کیلئے راج بھون روانہ کیا تھا۔ اسمبلی میں اس بل کو منظور کرانے کیلئے اس کی گورنر کی جانب سے توثیق ضروری تھی۔