دہلی

مسلم شخص کے خلاف مواد ہٹادینے دہلی ہائی کورٹ کا حکم

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے دن بعض نیوز چیانلس بشمول سدرشن نیوز اور یو ٹیوب‘ گوگل اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو ہدایت دی کہ وہ ان نیوز رپورٹس(خبروں) کے لنکس بلاک کردیں جن میں ایک مسلمان پر ایک عورت کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کا الزام ہے۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے دن بعض نیوز چیانلس بشمول سدرشن نیوز اور یو ٹیوب‘ گوگل اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو ہدایت دی کہ وہ ان نیوز رپورٹس(خبروں) کے لنکس بلاک کردیں جن میں ایک مسلمان پر ایک عورت کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کا الزام ہے۔

متعلقہ خبریں
یٰسین ملک سزائے موت کیس، سماعت سے ہائیکورٹ جج نے علیحدگی اختیار کرلی
لاپتا پڑوسی خاتون کی تلاش میں شامل مسلم نوجوان پر حملہ
وائرل ویڈیو سے مجھے دلی رنج پہنچا: دھنکر (ویڈیو)
پرووائس چانسلر تقرر کیس، جامعہ ملیہ اسلامیہ کودہلی ہائیکورٹ کی نوٹس
تعلیم کیلئے مخصوص اسکول کے انتخاب کا حق نہیں: دہلی ہائی کورٹ

عدالت کا یہ حکم فلم دی کیرالا اسٹوری پر تنازعہ کے درمیان آیا ہے۔

عظمت علی خان نامی شخص نے 19 اپریل کو اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد نیوز کانٹینٹ اور کلپس ہٹوانے کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے یو ٹیوب‘ گوگل‘ ٹویٹر‘ سدرشن ٹی وی‘ اڑیسہ ٹی وی‘ بھارت پرکاشن اور سریش چوانکے کو نوٹس جاری کی۔

a3w
a3w