امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران 100 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی بحری ناکہ بندی کے معاشی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو تیل برآمد کرنے اور پیٹرول درآمد کرنے کیلئے ڈالر حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
واشنگٹن: امریکی مرکزی کمان ’’سینٹ کام‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر جاری بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 100 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔
سینٹ کام نے ’’ایکس‘‘ پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران امریکی فوج کی مختلف شاخوں سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار سے زیادہ اہلکاروں نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔
بیان کے مطابق ان اہلکاروں میں فوج، بحریہ، میرینز اور فضائیہ کے اہلکار شامل تھے۔
امریکی مرکزی کمان نے کہا کہ اس دوران چار بحری جہازوں کو روکا گیا جبکہ انسانی امداد لے جانے والے 26 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔
اس سلسلے میں سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی افواج نے اس مشن کو انتہائی درستی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ انجام دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی تجارتی سرگرمیوں کو روکنے سے تہران پر شدید معاشی دباؤ پڑا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق اس مشن میں 200 سے زائد امریکی طیارے اور جنگی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔
ان میں طیارہ بردار بحری جہاز ’’ابراہام لنکن‘‘ اور ’’جارج ایچ ڈبلیو بش‘‘ کے سٹرائیک گروپس، ’’ٹریپولی‘‘ ایمفیبیئس گروپ اور 31ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے علاوہ گائیڈڈ میزائل شکن جنگی جہاز شامل ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی بحری ناکہ بندی کے معاشی اثرات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو تیل برآمد کرنے اور پیٹرول درآمد کرنے کیلئے ڈالر حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران تیل آسانی سے برآمد نہیں کر پا رہا کیونکہ ’’راستے بند کر دیے گئے ہیں‘‘۔
یاد رہے کہ امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر سخت بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ محاصرہ تہران کے ساتھ معاہدہ ہونے تک جاری رہے گا۔
دوسری جانب ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی جوہری مذاکرات سے قبل اس کی بندرگاہوں سے امریکی محاصرہ ختم کیا جانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے عملی طور پر 28 فروری سے تجارتی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کو بھی محدود کر رکھا ہے۔