احتجاجی طلبہ کیلئے 150 پیزا اور 1000 بسکٹ کے پیکٹ ، 73 ہزار روپے کا بل وائرل
بل کے مطابق پیزا کی مجموعی قیمت 64,650 روپے تھی، جبکہ جی ایس ٹی اور پیکجنگ سمیت کل رقم 67,734.18 روپے بنی۔ آرڈر پر 200 روپے کا کوپن ڈسکاؤنٹ بھی استعمال کیا گیا۔
نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملہ پر طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ اس دوران ناگالینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی انسان دوستی نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل جیت لئے ہیں۔ اس شخص نے تقریباً دو ہزار کلومیٹر دور بیٹھ کر مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے لئے 150 چیز برسٹ پیزا آرڈر کئے، جن کی مجموعی قیمت 67,734 روپے رہی، جبکہ اس کی رسید سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
انسٹاگرام پر ایک صارف نے بتایا کہ وہ احتجاج میں خود شریک نہیں ہو سکے، اس لئے انہوں نے طلبہ کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے 22 جولائی کو ڈومینوز سے کوریائی سویٹ چلی چیز برسٹ اور فارم ہاؤس چیز برسٹ پیزا آرڈر کئے اور انہیں سیدھا جنتر منتر پہنچانے کی ہدایت دی۔
بل کے مطابق پیزا کی مجموعی قیمت 64,650 روپے تھی، جبکہ جی ایس ٹی اور پیکجنگ سمیت کل رقم 67,734.18 روپے بنی۔ آرڈر پر 200 روپے کا کوپن ڈسکاؤنٹ بھی استعمال کیا گیا۔
"میں ناگالینڈ میں بیٹھا ہوں، میرے بھائی بہن بھوکے ہیں”
اپنی پوسٹ میں Zha-Lhou نے لکھا کہ وہ اس احساس کے ساتھ سکون سے کھانا نہیں کھا سکتے تھے کہ جنتر منتر پر ہزاروں طلبہ اپنے بہتر مستقبل کے لئے بھوکے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود وہاں نہیں پہنچ سکتے تو کم از کم کھانے کا انتظام کرکے اپنا فرض ادا کر سکتے ہیں۔
"جو بھی بھوکا ہو، اسے دے دیجئے”
جب ڈومینوز کا ڈلیوری بوائے جنتر منتر پہنچا اور فون کرکے پوچھا کہ آرڈر کس کے حوالہ کرنا ہے، تو Zha-Lhou نے جواب دیا، "براہِ کرم یہ کھانا کسی بھی ایسے شخص کو دے دیں جس نے ابھی تک کچھ نہ کھایا ہو۔” بتایا جاتا ہے کہ یہ جواب سن کر ڈلیوری بوائے بھی جذباتی ہوگیا اور اس نے کہا کہ آپ ان لوگوں کے لئے خدا کی نعمت ہیں۔
ایک ہزار بسکٹ کے پیکٹ اور پانی بھی بھیجا
24 جولائی کی صبح بھی Zha-Lhou نے اپنے دوستوں کی مدد سے 1000 سے زائد بسکٹ کے پیکٹ اور پانی کے کئی پیک خرید کر Blinkit کے ذریعہ جنتر منتر پہنچوائے۔ اس خریداری کا بل تقریباً 5 ہزار روپے بتایا جا رہا ہے۔
انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں سمیت ملک بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بھی Swiggy، Zomato یا دیگر ذرائع سے احتجاجی طلبہ کے لیے کھانا بھیج کر ان کی مدد کریں، کیونکہ ان کے مطابق "کوئی بھی نیکی چھوٹی نہیں ہوتی۔”