قومی

مودی کابینہ نے پیپر لیک ترمیمی بل کو منظوری دے دی، 10 سال قید، 10 کروڑ جرمانہ اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کی راہ ہموار

حکومت کے مطابق مجوزہ ترمیمی بل میں پیپر لیک مافیا کے خلاف انتہائی سخت قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ بل کے تحت پیپر لیک کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی، جنہیں مقدمات کی سماعت مکمل کرکے تین ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کی ہدایت ہوگی۔

نئی دہلی: ملک میں امتحانی پیپر لیک کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں جمعہ کو ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں "پیپر لیک ترمیمی بل” کو منظوری دے دی گئی۔

حکومت کے مطابق مجوزہ ترمیمی بل میں پیپر لیک مافیا کے خلاف انتہائی سخت قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ بل کے تحت پیپر لیک کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی، جنہیں مقدمات کی سماعت مکمل کرکے تین ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کی ہدایت ہوگی۔

مجوزہ قانون کے مطابق پیپر لیک میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سخت قانون کا مقصد امتحانی نظام کو شفاف بنانا اور طلبہ کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ ترمیمی بل آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جبکہ امکان ہے کہ اسے 27 جولائی، پیر کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پیپر لیک کے مسئلے پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ "پیپر لیک کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین کے لیے انتہائی تکلیف دہ معاملہ ہے۔”

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران حکومت نے اس معاملے میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں، متعدد ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا ہے، جبکہ طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہو، اس مقصد سے قلیل مدت میں 22 لاکھ طلبہ کے لیے دوبارہ امتحان منعقد کرایا گیا اور 19 جولائی کو نتائج بھی جاری کیے گئے۔

وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ حکومت صرف یہی اقدامات کافی نہیں سمجھتی، اسی لیے پیپر لیک کے مقدمات کے فوری تصفیے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ادھر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی جمعہ کو پیپر لیک کے معاملے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی اتوار تک ملتوی کر دی گئی۔