تلنگانہ

تلنگانہ میں محض 2 فیصد ووٹ شیئر کے فرق سے کامیابی کا فیصلہ

تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات جوجمعرات کے روز منعقد ہوئے تھے‘ میں محض ووٹ کے شیئر میں 2 فیصد کے فرق نے کامیابی کا فیصلہ کیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے اسمبلی انتخابات جوجمعرات کے روز منعقد ہوئے تھے‘ میں محض ووٹ کے شیئر میں 2 فیصد کے فرق نے کامیابی کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں 104 امیدواروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج
یہ کوئی عام الیکشن نہیں، دستور اور جمہوریت کو بچانا ہے۔ راہول گاندھی کا پارٹی کارکنوں کے نام ویڈیو پیام
بی آر ایس پر پول مینجمنٹ کاالزام، عوام برائے فروخت نہیں
اے پی میں لوک سبھا کے 13حلقوں کیلئے ٹی ڈی پی کی پہلی فہرست جاری
بی آر ایس کے مزید 2 امیدواروں کا اعلان، سابق آئی اے ایس و آئی پی ایس عہدیداروں کو ٹکٹ

39.40 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے کانگریس نے 64 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور اقتدار پرقبضہ کرلیا جبکہ 37.35 فیصد ووٹ شیئر کرنے کے باوجود بھارت راشٹر اسمیتی (بی آر ایس) ہیٹرک کرنے سے چونک گئی۔گزشتہ انتخابات کے ووٹ شیئر سے تقابل کیاجائے تو بی آر ایس کے ووٹ شیئر میں غیرمعمولی گراوٹ آئی۔

بی آر ایس نے 2018 کے انتخابات میں 46,87 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ کانگریس کے ووٹ شیئر میں 10.97 فیصد کا اضافہ ہواہے۔ 2018 کے الیکشن میں 46.87 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس نے 88 نشستیں جیتی تھیں‘جبکہ اس بار 37.35 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے بی آر ایس کو محض 39 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔

2018 کے انتخابات میں کانگریس نے تلگو دیشم پارٹی اور دیگر دو جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے 99 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کیا تھا اور اس نے 28.43 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے صرف19 سیٹیں جیتی تھیں۔ تلگو دیشم پارٹی کے 8 کے منجملہ 2 امیدوار منتخب ہوئے تھے اور اس کو محصلہ ووٹ کا فیصد3.51 فیصد تھا۔30نومبر کو منعقدہ انتخابات میں 3.26 کروڑ رائے دہندوں کے منجملہ 71.34 فیصد ووٹروں نے رائے دہی میں حصہ لیاتھا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 118 اسمبلی حلقوں سے کانگریس کو جملہ 92.35 لاکھ ووٹ ملے جبکہ کانگریس کی حلیف سی پی آئی جس نے ایک نشست حاصل کی تھی وہ بھی جیت لی‘ کا ووٹ شیئر 0.34 فیصد رہا۔ 2018 کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے 99 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کرتے ہوئے 58.83 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔

اس وقت کانگریس‘4 جماعتوں پر مشتمل پیپلز فرنٹ کی قیادت کررہی تھی۔ اس فرنٹ میں شامل دیگر دو جماعتیں تلنگانہ جنا سمیتی (ٹی جے ایس) اور سی پی آئی تھیں ان دونوں جماعتوں نے ایک بھی نشست نہیں جیتی اور دونوں کا ووٹ شیئر بالترتیب 0.40 فیصد اور 0.46 فیصد رہا۔ اس وقت بی آر ایس کو 87.53 لاکھ ووٹ ملے تھے۔

گزشتہ کے مقابلہ میں اس انتخاب میں بھگوا جماعت بی جے پی کے ووٹ شیئر میں دگنا اضافہ ہواہے۔ 2918 کے الیکشن میں بھگوا جماعت کو محصلہ ووٹوں کا تناسب 6.98 فیصد تھا۔ بی جے پی نے اپنی نشستوں کی تعداد میں بھی ایک سے 8 تک اضافہ کرلیاہے۔

اس بار بی جے پی نے 111 اسمبلی حلقوں سے مقابلہ کیاتھا اور 8 نشستیں‘ حلیف پارٹی پون کلیان کی جنا سینا پارٹی کے لیے چھوڑ دی تھیں۔ جن سینا پارٹی ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ گزشتہ ہفتہ منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اگرچیکہ مجلس نے اپنی 7نشستیں برقرار رکھیں مگر اس کے ووٹ شیئر میں معمولی کمی درج ہوئی ہے۔

2018 کے الیکشن میں مجلس نے 2.71 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے مگر اس بار اس کا ووٹ شیئر 2.22 فیصد رہا۔ تمام 9 اسمبلی حلقوں سے مجلس کو 5,19,379 ووٹ ملے۔

دیگر جماعتیں جیسے بہوجن سماج پارٹی نے (بی ایس پی) نے 1.37 فیصد‘ سی پی آئی ایم نے 0.22 فیصد اور اے آئی ایف بی نے 0.62 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ دیگر نے 3.84 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق 2023 کے اسمبلی انتخابات میں نوٹا (نن آف دی اباؤ) کو2.24 لاکھ ووٹ ملے جبکہ2018 کے انتخابات میں نوٹا کو 1.71 لاکھ ووٹ حاصل کئے

a3w
a3w