حیدرآبادسوشیل میڈیا
ٹرینڈنگ

سکندرآباد کے DMart میں حاملہ مسلم خواتین سے مبینہ بدسلوکی، ویڈیو وائرل، عوام میں غم و غصہ (ویڈیو)

متاثرہ خواتین نے الزام لگایا کہ انہوں نے تقریباً 5 ہزار روپے کی خریداری کی تھی، تاہم مال سے باہر نکلتے وقت سیکیورٹی عملے نے انہیں روک کر تلاشی لی۔ خواتین کا کہنا ہے کہ پہلی تلاشی میں کچھ نہ ملنے کے باوجود انہیں مزید دو مرتبہ چیک کیا گیا۔

حیدرآباد: سکندرآباد کے ڈی مارٹ شاپنگ مال میں دو برقع پوش مسلم حاملہ خواتین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر شاپنگ مالز میں سیکیورٹی کے نام پر اختیار کیے جانے والے رویّوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں
سری چیتنیہ کالجس پر طلبہ کو ہراساں کرنے کا الزام۔ یوتھ کانگریس کا احتجاج
پریڈ گراؤنڈ پر کائٹ و سوئٹ فیسٹول کا آغاز (ویڈیو)
دہلی پولیس کو کانگریس ورکرس کو ہراسانی سے روکا جائے:دیویندر یادو
یامنی جادھو نے ممبئی میں برقعے تقسیم کرنے کی مدافعت کی
پرامن سماج کی تشکیل کیلئے مہاتما بدھ کی تعلیمات ضروری: ریونت ریڈی

تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ ہفتہ 2 مئی کو پیش آیا، جہاں متاثرہ خواتین نے الزام لگایا کہ انہوں نے تقریباً 5 ہزار روپے کی خریداری کی تھی، تاہم مال سے باہر نکلتے وقت سیکیورٹی عملے نے انہیں روک کر تلاشی لی۔ خواتین کا کہنا ہے کہ پہلی تلاشی میں کچھ نہ ملنے کے باوجود انہیں مزید دو مرتبہ چیک کیا گیا۔

وائرل ویڈیو میں خواتین کو شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، جہاں وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ آخر انہیں ہی بار بار کیوں روکا جا رہا ہے جبکہ دیگر خریداروں کو بغیر کسی جانچ کے جانے دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہیں، اس کے باوجود ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا۔

متاثرہ خواتین کا الزام ہے کہ سیکیورٹی عملے نے انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ اس امتیازی سلوک کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا اور پورے واقعے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر لی۔

بعد ازاں سیکیورٹی پر مامور خاتون نے معذرت کر لی، تاہم متاثرہ خواتین نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور اپنے پیسے واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ مال کی سینئر مینجمنٹ نے موقع پر پہنچ کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ڈی مارٹ میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اگرچہ بعض دعوؤں کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، لیکن حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سیکیورٹی کے نام پر مخصوص طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات پر سیکیورٹی کے اقدامات کو شفاف، منصفانہ اور غیر امتیازی ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی شہری، خاص طور پر خواتین اور حساس حالات میں موجود افراد کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔