مولا نا سلمان ندوی کا انتقال، ملت ایک روشن ستارہ سے محروم
نہوں نے طلباء میں نئے طرز سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے نئے طرز مدرسہ قائم کرکے طلباء کو عصری اور دینی علوم سے بہرہ ور کیا
نئی دہلی : معروف عالم دین مولانا سید سلمان حسنی ندوی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علمائے حق کے قومی صدر اور مشہور عالم دین مولانا اعجاز عرفی قاسمی نے کہاکہ مولانا سلمان حسنی ندوی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہواہے اسے پر کرنا بہت مشکل ہے۔
مولانا عرفی قاسمی نے جاری اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سلمان ندوی دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے دوران ہزاروں ساگردوں میں اسلامی روح پھونکنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے طلباء میں نئے طرز سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے نئے طرز مدرسہ قائم کرکے طلباء کو عصری اور دینی علوم سے بہرہ ور کیا۔
اپنے مدرسے میں طلباء کو جدید علوم کے ساتھ فٹنس اور عربی زبان میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ندوی اپنی رائے کا نہایت بے باکی سے اظہار کرتے تھے۔ ہر موضوع پر اپنی رائے پیش کرتے تھے اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور وہ عالم اسلام کے حالات و اقعات کما حقہ ادراک رکھتے تھے۔ ملت اسلامیہ کے پیش آنے والے مسائل پرمدلل انداز میں بات کرتے تھے۔ ساتھ ہی وہ باہمی اخوت کے طرفدار تھے۔
مولانا عرفی نے مولانا سلمان ندوی کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ وہ نہ صرف ان کے پروگرام میں شریک ہوتے تھے بلکہ ان کے رسالہ حسن تدبیر کے لئے مضامین کے ساتھ پیغام بھی پابندی سے ارسال کرتے تھے۔ انہوں نے حسن تدبیرکے خصوصی شمارہ جو مشہور عالمی شخضیات کے حوالے سے معنون ہوا کرتے تھے۔ اس رسالہ کے کارناموں کو سراہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے انتقال ملت بے باک قائد اور خانوادہ علی میان کے ایک روشن ستارہ سے محروم ہوگئی ہے