سی بی ایس ای نے سہ لسانی پالیسی کے لیے جاری کیئے رہنما اصول دسویں جماعت کے موجودہ طلبہ پر نہیں ہوگا اثر
سال 27-2026 میں چھٹی جماعت میں داخلہ لینے والے اور اس کے بعد کے تمام بیچوں کو دسویں جماعت میں تیسری زبان کا بورڈ امتحان دینا ہوگا
نئی دہلی : مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے عین مطابق سہ لسانی پالیسی کو نافذ کے لیے تعلیمی سال 27-2026 سے رہنما اصول جاری کی ہیں۔
سی بی ایس ای نے آج گائیڈ لائنز جاری کر کے واضح کیا ہے کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں دسویں جماعت کے طلبہ پر نیا نظام نافذ نہیں ہوگا اور وہ پہلے کی طرح صرف دو زبانوں کے ساتھ اپنے بورڈ امتحانات دیں گے۔ نویں جماعت کے تمام طلبہ کو اب تین زبانیں پڑھنی ہوں گی، جن میں کم از کم دو ہندستانی زبانیں لازمی ہوں گی۔ اگر کوئی طالب علم پہلے سے دو ہندستانی زبانیں پڑھ رہا ہے، تو وہ تیسری زبان کے طور پر کسی دوسری ہندستانی زبان یا انگریزی، فرینچ، جرمن جیسی غیر ملکی زبان کا انتخاب کر سکتا ہے۔
وہیں، جو طلبہ ایک ہندستانی اور ایک غیر ملکی زبان پڑھ رہے ہیں، انہیں تیسری زبان کے طور پر ایک ہندستانی زبان کا انتخاب کرنا ہوگا۔ جن طلبہ نے پہلے سے دو غیر ملکی زبانیں لے رکھی ہیں، انہیں ایک بار کی خصوصی چھوٹ کے تحت صرف ایک اضافی ہندستانی زبان جوڑنی ہوگی۔
بورڈ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نویں، ساتویں اور آٹھویں جماعت کے موجودہ بیچ کے لیے تیسری زبان کی جانچ (ایویلویشن) صرف اسکول کی سطح پر اندرونی امتحان (انٹرنل اسیسمنٹ) کے ذریعے ہوگی۔ ان طلبہ کو دسویں جماعت میں پہنچنے پر تیسری زبان کا سی بی ایس ای بورڈ امتحان نہیں دینا ہوگا۔ وہیں، سال 27-2026 میں چھٹی جماعت میں داخلہ لینے والے اور اس کے بعد کے تمام بیچوں کو دسویں جماعت میں تیسری زبان کا بورڈ امتحان دینا ہوگا۔ طلبہ کی مدد کے لیے سی بی ایس ای اور این سی ای آر ٹی سطح کے مطابق درسی مواد فراہم کریں گے۔
سی بی ایس ای نے معذور طلبہ، بیرونِ ملک واقع سی بی ایس ای اسکولوں اور بیرونِ ملک سے ہندستان لوٹنے والے طلبہ کو سہ لسانی پالیسی سے کچھ چھوٹ بھی فراہم کی ہے۔ ساتھ ہی دوسری ریاستوں میں منتقل ہونے والے خاندانوں کے بچوں کو اپنے پرانے زبان کے نظام کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بورڈ نے اسکولوں کو ضروری اساتذہ کا انتظام، بین اسکول تعاون اور ورچوئل ٹیچنگ جیسے متبادل اپنانے کی ہدایات دی ہیں۔ سی بی ایس ای نے کہا کہ نئے نظام کا مقصد امتحان کا بوجھ بڑھانا نہیں، بلکہ طالب علموں میں ہندستانی زبانوں کے تئیں دلچسپی پیدا کرتے ہوئے کثیر لسانی صلاحیت اور ہمہ جہت ترقی کو فروغ دینا ہے۔