کھیل

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں کھلبلی: استعفوں کا انبار، صدر امین الاسلام دباؤ کا شکار

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی ) اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین مسلسل مستعفی ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقاتی رپورٹ نے صدر امین الاسلام بلبل کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی ) اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین انتظامی بحران سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین مسلسل مستعفی ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقاتی رپورٹ نے صدر امین الاسلام بلبل کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
پاکستان سیریز سے قبل بنگلہ دیش کو دھکا


گزشتہ چند ماہ کے دوران بورڈ کے سات ڈائریکٹرز اپنے عہدوں سے دستبردار ہو چکے ہیں، جن میں سے چھ نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران استعفیٰ دیا۔ حیران کن طور پر اتوار کے اجلاس کے فوراً بعد چار ڈائریکٹرز نے ایک ساتھ بورڈ چھوڑنے کا اعلان کیا۔

اگرچہ استعفوں کی سرکاری وجہ ‘ذاتی مصروفیات’ بتائی گئی ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹرز بورڈ کے طریقہ کار، مشاورت کے فقدان اور سیاسی مداخلت سے سخت نالاں تھے۔ ایک سابق ڈائریکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فیصلے کرتے وقت ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ اگر ہمیں اطلاع ہی نہیں دی جانی تو ہمارا بورڈ میں رہنے کا کیا فائدہ؟


ریٹائرڈ جسٹس اے کے ایم اسد الزماں کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی کمیٹی نے گزشتہ سال ہونے والے بی سی بی انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی رپورٹ ‘نیشنل اسپورٹس کونسل’ ( این ایس سی ) کو پیش کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں انتخابی عمل کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا ہے اور اصلاحات کی سفارش کی گئی ہے۔


وزیر مملکت برائے نوجوانان و کھیل، امین الحق نے اس حوالے سے کہا ہے کہ حکومت کوئی بھی اگلا قدم اٹھانے سے پہلے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( (آیئ سی سی ) سے مشاورت کرے گی۔ان تمام تر دباؤ اور استعفوں کے باوجود صدر امین الاسلام بلبل مستعفی ہونے کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے حالیہ سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا اور ٹیم کے پریکٹس سیشن کا دورہ بھی کیا۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا”چاہے سب چلے جائیں، میں وہ آخری شخص ہوں گا جو اس بورڈ سے جائے گا۔