مغربی بنگال میں بی جے پی کی آندھی، ممتا کا قلعہ منہدم
بی جے پی کے حق میں اٹھنے والی عوامی حمایت کے زبردست طوفان میں ترنمول کانگریس کی زمین کھسک گئی اور پارٹی کے 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی جیت کے سیلاب میں ترنمول حکومت کے کئی وزراء اور قد آور رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی بھوانی پور نشست سے انتخاب ہار گئی ہیں۔
کولکاتا: مغربی بنگال کی انتخابی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اسمبلی میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کے ساتھ پہلی بار اقتدار سنبھالنے جا رہی ہے۔
بی جے پی کے حق میں اٹھنے والی عوامی حمایت کے زبردست طوفان میں ترنمول کانگریس کی زمین کھسک گئی اور پارٹی کے 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی جیت کے سیلاب میں ترنمول حکومت کے کئی وزراء اور قد آور رہنماؤں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی بھوانی پور نشست سے انتخاب ہار گئی ہیں۔
پیر کو ہوئی ووٹوں کی گنتی میں دیر رات تک موصول ہوئے نتائج اور رجحانات کے مطابق 294 نشستوں والی اسمبلی میں 204 نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں اور 2 نشستوں پر وہ آگے چل رہے ہیں۔ اس طرح بی جے پی 206 نشستیں حاصل کر رہی ہے۔ حکومت بنانے کے لیے 148 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار تھی۔
الیکشن کمیشن نے پورے فلٹا انتخابی حلقے میں 29 اپریل کو ہوئی پولنگ میں بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد وہاں 21 مئی کو دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے 75 نشستیں جیتی ہیں اور چھ پر اس کے امیدوار آگے چل رہے تھے۔ اس طرح پارٹی صرف 81 نشستوں تک سمٹ گئی ہے۔
سال 2021 کے انتخابات میں ترنمول کو 213 اور بی جے پی کو 77 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ اس بار ریاست میں 6.8 کروڑ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 92.93 فیصد نے ووٹ ڈالے جو اب تک کا ایک ریکارڈ ہے۔ بی جے پی کا ووٹ بینک تقریباً سات فیصد اضافے کے ساتھ گزشتہ انتخاب کے 38.15 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 45.85 فیصد کے دائرے میں آ گیا ہے، جبکہ ترنمول کا ووٹ تناسب 48.02 فیصد سے گھٹ کر 40.79 فیصد کے قریب آ گیا ہے۔
کانگریس دو نشستیں جیت کر اس بار اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہی ہے۔ گزشتہ انتخاب میں اسے ایک بھی نشست نہیں ملی تھی۔ اسی طرح مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) ایک نشست جیت سکی ہے جبکہ گزشتہ انتخاب میں اس کا بھی کھاتہ نہیں کھلا تھا۔
دو نشستوں پر ہمایوں کبیر کی عام جنتا اونین پارٹی (اے جے یو پی) کامیاب ہوئی ہے۔ ایک نشست آل انڈیا سیکولر فرنٹ نے جیتی ہے۔ بی جے پی کو ریاست میں شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہر خطے میں بے مثال کامیابی ملی ہے۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں ریاست کے ووٹروں کی نظروں سے اوجھل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھوانی پور نشست پر سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی امیدوار شبھیندو ادھیکاری نے 15 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ مسٹر ادھیکاری اپنی پچھلی نشست نندی گرام سے بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ بار نندی گرام نشست پر محترمہ ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔
ممتا کابینہ میں وزیرِ فائر بریگیڈ کے وزیر سجیت بوس، کھیل اور نوجوانوں کے امور کے وزیر اروپ بسواس، وزیر صحت چندریما بھٹاچاریہ، خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر ششی پانجا اور وزیر تعلیم صدیق اللہ چودھری انتخاب ہار گئے ہیں۔
سال 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں ترنمول نے 46.16 فیصد ووٹ حاصل کر کے 29 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی 39.08 فیصد ووٹوں کے ساتھ 12 نشستوں پر کامیاب رہی تھی۔ بی جے پی کو 2016 سے انتخابی کامیابی ملنی شروع ہوئی۔ اس بار پارٹی کو اسمبلی میں تین نشستیں ملی تھیں، 2021 میں یہ تعداد 77 ہو گئی۔
اس بار کے انتخاب میں حکمراں ترنمول نے جہاں ایک بار پھر ‘ماں، مانوش، ماٹی’ کو اپنا انتخابی موضوع بنایا تھا اور ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے حوالے سے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کو نشانے پر رکھا ہوا تھا، وہیں بی جے پی نے دراندازی، بدعنوانی اور خواتین کی عدم تحفظ کو اہم موضوع بنایا تھا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی نتائج پر کہا کہ ‘آج سے بنگال خوف سے پاک ہو گیا ہے’ اور ترقی سے ہمکنار ہو گیا ہے۔