شمالی بھارت

مودی کے رام راج میں دلتوں کو نوکری نہیں ملتی: راہول گاندھی

راہول گاندھی نے کہا کہ آپ نے پران پرتشٹھا (رام مندر کی افتتاحی تقریب) دیکھی ہوگی۔ پسماندہ طبقات‘ دلتوں اور قبائلیوں میں کتنے لوگوں کو وہاں آنے دیا گیا۔ قبائلی صدر (دروپدی مرمو) کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ سابق دلت صدر (رام ناتھ کووند) کو بھی اندر آنے نہیں دیا گیا۔

کانپور/ اُناؤ(یوپی): کانگریس رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے چہارشنبہ کے دن بی جے پی کی مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے لئے جو آبادی کا 90 فیصد ہیں‘ زیادہ نوکریاں نہیں پیدا کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں
ہندوستان میں غیرقانونی داخلہ پر 7 روہنگیا گرفتار
منی پور کا مسئلہ پارلیمنٹ میں پوری طاقت سے اٹھایا جائے گا: راہول گاندھی
ہندوستان کو سوشلزم کی ضرورت نہیں، رام راجیہ کے ذریعہ چلایا جائے گا:یوگی
میں آسام کے سیلاب زدگان کے ساتھ کھڑا ہوں:قائد اپوزیشن
راہل نے خط لکھ کر مرمو سے اگنی ویر اسکیم میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا

بی جے پی کے رام راجیہ میں دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات سے بھیدبھاؤ ہورہا ہے۔ راہول گاندھی نے اپنی بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران شہر کے گھنٹہ گھر چوراہا پر جلسہ عام سے خطاب میں سوال کیا کہ یہ کیسا رام راجیہ ہے جس میں پسماندہ طبقات‘ دلتوں‘ قبائلیوں اور اقلیتوں کو جو ملک کی جملہ آبادی کا لگ بھگ 90 فیصد ہیں‘ نوکریاں نہیں ملتیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں 55 فیصد آبادی پسماندہ طبقات کی ہے۔ دلت 15 فیصد‘ قبائلی 8 فیصد اور اقلیتیں 15 فیصد ہیں۔ جتنا چیخنا ہے چیخو لیکن تم کو اس ملک میں روزگار نہیں ملے گا۔ اگر تمہارا تعلق پسماندہ طبقات‘ دلت‘ قبائل یا غریبوں کے عام زمرہ سے ہے تو تمہیں نوکری نہیں مل سکتی۔

نریندر مودی نہیں چاہتے کہ تمہیں نوکریاں ملیں۔ سابق صدر کانگریس نے کہا کہ ہندوستان میں طبقہ اور ذات پات کی پھوٹ اتنی زیادہ ہے کہ میڈیا یا بڑی صنعتوں یا بیوروکریسی میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرنے والا کوئی بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ملک میں بھوکوں مررہے ہیں۔

راہول گاندھی نے کہا کہ آپ نے پران پرتشٹھا (رام مندر کی افتتاحی تقریب) دیکھی ہوگی۔ پسماندہ طبقات‘ دلتوں اور قبائلیوں میں کتنے لوگوں کو وہاں آنے دیا گیا۔ قبائلی صدر (دروپدی مرمو) کو بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ سابق دلت صدر (رام ناتھ کووند) کو بھی اندر آنے نہیں دیا گیا۔

راہول گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی اور حلیف جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔ ایسے سروے سے ہی پسماندگی معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ پتہ چلے گا کہ پسماندہ لوگوں کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ ذات پات پر مبنی مردم شماری ملک کی ترقی کے لئے سب سے بڑا انقلابی قدم ہے۔

راہول گاندھی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ملک کی ساری دولت دو تین فیصد لوگوں اڈانی‘ امبانی‘ ٹاٹا‘ برلا کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ دو تین فیصد لوگ تم پر حکمرانی کررہے ہیں۔ یہ لوگ نیو انڈیا کے مہاراجہ ہیں۔ کانگریس قائد نے مرکزی حکومت پر اس کے کئی فیصلوں بشمول 2016 کی نوٹ بندی‘ جی ایس ٹی اور اگنی ویر اسکیم کے لئے تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات آپ کے پرچوں کا افشاء ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات آپ کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔ آپ پر جی ایس ٹی‘ نوٹ بندی تھوپ دی جاتی ہے۔ سرکاری بھرتیاں نہیں ہوتیں۔ فوج میں بھرتی ہونے کا آپ کا راستہ بھی مودی حکومت نے اگنی ویر یوجنا کے ذریعہ بند کردیا۔ اُناؤ شہر سے شکلا گنج جاتے ہوئے راہول گاندھی کا قافلہ اکرم پور کے قریب کچھ دیر رکا جہاں کانگریس قائد نے بعض ورکرس سے ملاقات کی۔

a3w
a3w