دِشا کمیٹی اجلاس میں ترقیاتی کاموں اور فلاحی اسکیمات کا جائزہ، ڈی کے ارونا کی افسران کو سخت ہدایات
نارائن پیٹ ضلع کلکٹر دفتر میں ضلع ترقیاتی رابطہ و نگرانی کمیٹی (دِشا) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت رکن پارلیمان و دِشا کمیٹی چیئرپرسن ڈی کے ارونا نے کی۔ اجلاس میں ضلع کلکٹر سی ایچ پرینکا، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔
نارائن پیٹ ضلع کلکٹر دفتر میں ضلع ترقیاتی رابطہ و نگرانی کمیٹی (دِشا) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت رکن پارلیمان و دِشا کمیٹی چیئرپرسن ڈی کے ارونا نے کی۔ اجلاس میں ضلع کلکٹر سی ایچ پرینکا، مختلف سرکاری محکموں کے افسران اور عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ضلع میں جاری ترقیاتی کاموں اور مرکزی و ریاستی حکومت کی مختلف فلاحی اسکیمات کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر ڈی کے ارونا نے کہا کہ حکومت کی فلاحی اسکیمات کا حقیقی مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب ان کے فوائد مستحق افراد تک پہنچیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ عوام میں سرکاری اسکیمات سے متعلق بیداری پیدا کی جائے اور زیر التواء ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلاحی منصوبوں کے نفاذ میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایم پی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ضلع کے کئی دیہاتوں میں اب تک گرام پنچایت عمارتیں موجود نہیں ہیں جبکہ متعدد آنگن واڑی مراکز کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔ انہوں نے ان مراکز کے لیے مستقل عمارتوں کی منظوری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
انہوں نے سابق سرپنچوں کی جانب سے انجام دیے گئے ترقیاتی کاموں کے بقایا بل فوری جاری کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فلاح کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے پشو پالن محکمہ کے تحت پولٹری، گائے اور بھیڑ بکریوں کی پرورش سے متعلق مرکزی سبسڈی اسکیمات پر عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اندرامّا ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مستحقین کے انتخاب پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈی کے ارونا نے کہا کہ اہل افراد کو سیاسی بنیادوں پر فہرست سے خارج کرنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکیمات غریب عوام کی فلاح کے لیے ہوتی ہیں اور حقیقی مستحقین کو ہی ان سے فائدہ پہنچنا چاہیے۔
اجلاس میں پردھان منتری سڑک یوجنا کے تحت جاری سڑکوں کے کاموں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایم پی نے ضلع کے پرائمری ہیلتھ سنٹروں میں ڈاکٹروں کی کمی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نصف عملے کے ساتھ طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جو تشویشناک ہے۔
ڈی کے ارونا نے کہا کہ نارائن پیٹ ضلع ماضی میں دالوں اور موٹے اناج کی پیداوار کے لیے مشہور تھا اور دوبارہ اس مقام کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے ضلع میں زیر التواء "چئیوتا” پنشن درخواستوں پر بھی تشویش ظاہر کی، خاص طور پر بیوہ خواتین کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 5600 درخواستیں طویل عرصے سے زیر التواء ہیں، جنہیں فوری منظور کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مشن بھگیرتھا کے تحت پانی کی فراہمی میں کمی پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مکتل میونسپلٹی اور کوٹہ کونڈہ علاقوں میں پانی کے مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت دی۔ افسران نے اجلاس میں بتایا کہ ضلع میں زیر زمین پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے بہتر ہوئی ہے۔
اجلاس کے دوران ڈی کے ارونا نے ضلع میں غیر قانونی ریت کی نقل و حمل کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اجلاس میں مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔