سرکاری خزانہ میں غبن، کلکٹریٹ کے 3 ملازمین معطل
سرکاری خزانے سے 37.85 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ خرد برد کے معاملے میں جنگاؤں ضلع کلکٹریٹ کے تین ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ایسے سامان کی خریداری کے نام پر جعلی بل تیار کرکے سرکاری رقم ہڑپ کی گئی جو کبھی فراہم ہی نہیں کیا گیا، جبکہ جرم کے شواہد مٹانے کی بھی کوشش کی گئی۔
حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) سرکاری خزانے سے 37.85 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ خرد برد کے معاملے میں جنگاؤں ضلع کلکٹریٹ کے تین ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ ایسے سامان کی خریداری کے نام پر جعلی بل تیار کرکے سرکاری رقم ہڑپ کی گئی جو کبھی فراہم ہی نہیں کیا گیا، جبکہ جرم کے شواہد مٹانے کی بھی کوشش کی گئی۔
اس سلسلے میں جنگاؤں ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں بی این ایس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور سی سی اے رولز کے تحت محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ پولیس نے مبینہ دھوکہ دہی میں ملوث ایک مقامی بینک کے برانچ منیجر اور ایک نجی تاجر کے خلاف بھی کیس درج کیا ہے۔
ضلع کلکٹر سندیپ کمار جھا کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، بینک کی جنگاؤں شاخ میں موجود کلکٹریٹ انٹرسٹ فنڈز اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر سرکاری رقم منتقل کی گئی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے مجرمانہ سازش اور مشترکہ ارادے کے تحت انٹرپرائزس وی سی آر، محبوب آباد، پرنٹرس آرٹ وی ایس اور گرافکس رتھوک، ہنمکنڈہ کے نام سے چار ہاتھ سے لکھے گئے جعلی نقد بل تیار کیے، حالانکہ نہ کوئی سامان فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی خدمات انجام دی گئیں۔
تحقیقات اور آڈٹ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ بلوں میں درج برقی سامان، فرنیچر، کمپیوٹرز اور انتخابی مواد موقع پر موجود نہیں تھے، جبکہ اسٹاک رجسٹر، خریداری فائلیں، کوٹیشن، ٹینڈر ریکارڈ، سپلائی آرڈر، ڈلیوری چالان، ٹیکس انوائسز اور دیگر ضروری دستاویزات بھی دستیاب نہیں تھیں۔ مزید برآں، تینوں فرموں کا کنٹرول ایک ہی مالک کے پاس ہونے کا انکشاف ہوا، جس سے مبینہ ملی بھگت اور دھوکہ دہی پر مبنی انتظام کا شبہ پیدا ہوا۔
شکایت کے مطابق ملزمان نے سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی، فائلوں میں پچھلی تاریخیں درج کرنے، فرضی دستاویزات تیار کرنے اور سرکاری منظوری کا جھوٹا تاثر پیدا کرکے رقم جاری کرائی۔ 26 فروری 2026 کو شام 3:46 بجے سے 6:06 بجے کے درمیان ایک ہی مرحلے میں آر ٹی جی ایس کے ذریعہ مجموعی طور پر 37,85,050 روپے منتقل کیے گئے، جس کے نتیجے میں تقریباً ڈھائی گھنٹے کے اندر اکاؤنٹ میں موجود ایک کروڑ سات لاکھ روپے سے زائد کی رقم گھٹ کر محض 600.17 روپے رہ گئی۔ شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان کے اقدامات سے مجرمانہ اعتماد شکنی، دھوکہ دہی، جعلسازی، جعلی دستاویزات کو اصلی کے طور پر استعمال کرنے، اکاؤنٹس میں جعلسازی، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، سرکاری ملازمین کی بدعنوانی اور انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت قابلِ دست اندازی پولیس جرائم کا انکشاف ہوتا ہے۔