برکس ممالک میں ہر کارکن کو سماجی تحفظ کا حق ملنا چاہیے
تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا نے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس میں حاصل ہونے والے اتفاقِ رائے کو سراہا۔
حیدرآباد : 14 سے 16 جولائی تک حیدرآباد میں منعقدہ برکس ٹریڈ یونین فورم (ٹی یو ایف) سربراہی اجلاس 2026 کے 15ویں اجلاس کا اختتام حیدرآباد اعلامیہ کی متفقہ منظوری کے ساتھ ہوا۔ اعلامیے میں برکس ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام اقسام کے کارکنوں، بشمول غیر منظم شعبے کے مزدوروں، مہاجر مزدوروں، پلیٹ فارم اور گیگ ورکرز، خود روزگار افراد، زرعی مزدوروں اور غیر روایتی روزگار سے وابستہ کارکنوں کے لیے جامع، مناسب اور پائیدار سماجی تحفظ کا نظام یقینی بنائیں۔
ہفتہ کے روز جاری ایک پریس ریلیز میں برکس ٹریڈ یونین فورم کے چیئرمین اور بھارتیہ مزدور سنگھ (بی ایم ایس) کے آل انڈیا صدر سنکری ملیشم نے کہا کہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آخری کارکن تک سماجی تحفظ کی فراہمی کو عالمی ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی مقصد بنایا جانا چاہیے۔
بھارت کی برکس صدارت 2026 کے تحت بھارتیہ مزدور سنگھ کی میزبانی میں منعقدہ اس تین روزہ اجلاس میں 13 رکن اور شراکت دار ممالک کی ٹریڈ یونین تنظیموں کے 53 مندوبین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ 60 سے زائد ٹریڈ یونین رہنما، صنعتی نمائندے، ہیومن ریسورس ماہرین اور پالیسی ساز بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ تلنگانہ کے گورنر شیو پرتاپ شکلا نے اختتامی اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس میں حاصل ہونے والے اتفاقِ رائے کو سراہا۔
اعلامیے میں بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کی جانب سے 2026 کے "پلیٹ فارم اکانومی میں باوقار روزگار” کنونشن کی منظوری کا خیرمقدم کیا گیا اور برکس ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی قومی قانون سازی کو اس کے مطابق ڈھالیں تاکہ گیگ اور پلیٹ فارم کارکنوں کو اجتماعی سودے بازی (کلیکٹو بارگیننگ) کے حقوق اور سماجی تحفظ حاصل ہو سکے۔
حیدرآباد اعلامیہ میں چار ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں خواتین کی افرادی قوت میں زیادہ سے زیادہ شمولیت، مہاجر مزدوروں کے لیے سماجی تحفظ کی سہولتوں کی منتقلی (پورٹیبلٹی) کے ساتھ جامع سماجی تحفظ، مسلسل مہارتوں میں اضافہ اور نئی مہارتوں کی تربیت، اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسان دوست ہو اور کارکنوں کی جگہ لینے کے بجائے ان کی معاون ثابت ہو۔