سونم وانگچک کی حراست پر دیپکے کا مودی حکومت پر بڑا حملہ
اگر سرکار کو لگتا ہے کہ سونم سر کو اٹھا کر یہ تحریک ختم ہو جائے گی، تو ایسا نہیں ہوگا۔ تحریک جاری رہے گی اور 20 جولائی کو یہیں سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالا جائے گا
نئی دہلی : سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو ہفتہ کو جنتر منتر سے ہٹا کر زبردستی ہسپتال میں داخل کروائے جانے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی صدر ابھیجت دیپکے نے ہفتہ کو کہا کہ اب وہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نہیں، بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔
مسٹر دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مسٹر وانگچک کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں زبردستی وہاں سے لے گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس انہیں چادروں سے ڈھانپ کر لے گئی، جبکہ اگر کارروائی درست تھی تو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا، "سونم سر (وانگچک) کو گھسیٹ کر اور گالی گلوج کرتے ہوئے یہاں سے لے جایا گیا۔ اگر سرکار کو لگتا ہے کہ سونم سر کو اٹھا کر یہ تحریک ختم ہو جائے گی، تو ایسا نہیں ہوگا۔ تحریک جاری رہے گی اور 20 جولائی کو یہیں سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالا جائے گا۔” مسٹر دیپکے نے پولیس کی کارروائی کو "غنڈوں جیسی حرکت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک کار پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا، "اب تک ہم چاہتے تھے کہ نیٹ-یو جی پیپر لیک کے بعد طلبہ کی خودکشیوں پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان ذمہ داری لے کر استعفیٰ دیں، لیکن آج سرکار نے جو کچھ کیا ہے، اس کے بعد ہم وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے ساتھ 21 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے مسٹر وانگچک کو دہلی پولیس نے آج صبح جنتر منتر سے ہٹا دیا۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کر کے کہا کہ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے ایک حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں صفدر جنگ ہسپتال پہنچایا ہے۔ پولیس نے مظاہرین سے درخواست کی ہے کہ وہ جنتر منتر کی احتجاجی جگہ کو جلد سے جلد خالی کر دیں۔
مسٹر دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا، "دہلی پولیس نے سونم سر (وانگچک) کو جنتر منتر سے اٹھا لیا ہے۔ پولیس نے طلبہ پر بھی لاٹھی چارج کیا ہے۔ میں ابھی اپنے دوست کے گھر گیا تھا، جہاں مجھے بند کر دیا گیا اور میرے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی۔”
انہوں نے کہا، "مسٹر وانگچک کو اٹھانے کے بعد انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے لیکن جنتر منتر جانے کی اجازت ابھی بھی نہیں ہے۔ جو بھی لوگ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں، میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں ملک بھر میں احتجاج کرنا ہوگا۔ سب سے گزارش ہے کہ کوئی قانون توڑے بغیر پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ ہمیں جواب دینا ہوگا کہ ہم آمریت برداشت نہیں کریں گے۔” اس دوران، سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے کہا، "ہم دن کی شروعات کرنے سے پہلے روزانہ اپنے دوست کے گھر جاتے ہیں۔ اسی وقت سونم وانگچک کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جنتر منتر کو ہمارے لیے بند کر دیا گیا ہے اور اندر لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا، "شاید ہمیں بھی ابھی گرفتار کیا جائے لیکن ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اب چپ بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ سڑکوں پر اتر کر پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ آپ مت بھولیے گا کہ 20 بچوں نے خودکشی کی ہے۔ ہم نظام بدلنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔”