حیدرآباد: جب خاتون پولیس کمشنر عام شہری بن کر بس اسٹاپ پر کھڑی ہوئیں، پھر جو ہوا وہ حیران کن تھا! (ویڈیو)
پولیس کمشنر سمتی رات 12:30 سے صبح 3:30 بجے کے درمیان بغیر کسی پروٹوکول یا سیکیورٹی کے ایک بس اسٹاپ پر کھڑی رہیں۔ اس دوران جو کچھ ہوا وہ خواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کرتا ہے:
حیدرآباد: خواتین کی حفاظت کے دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے ملکاجگِری کی پولیس کمشنر سوماتھی نے ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے ایک عام خاتون کے بھیس میں آدھی رات کو شہر کی سڑکوں پر تنہا کھڑے ہو کر زمینی صورتحال کا جائزہ لیا۔
پولیس کمشنر سمتی رات 12:30 سے صبح 3:30 بجے کے درمیان بغیر کسی پروٹوکول یا سیکیورٹی کے ایک بس اسٹاپ پر کھڑی رہیں۔ اس دوران جو کچھ ہوا وہ خواتین کی سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کرتا ہے:
صرف 3 گھنٹے کے اندر تقریباً 40 مردوں نے ان سے رابطہ کیا۔
رابطہ کرنے والوں میں نوجوان، طلبہ اور ملازمین شامل تھے۔
ان میں سے کئی افراد نشے کی حالت میں تھے اور بعض پر منشیات کے استعمال کا شبہ تھا۔
ان افراد کو اس بات کا وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ وہ جس خاتون کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ شہر کی سینئر ترین پولیس افسر ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق، اس مشق کا مقصد صرف گرفتاری نہیں بلکہ سماجی رویوں کو سمجھنا تھا۔ شناخت کیے گئے افراد کو فوری جیل بھیجنے کے بجائے انہیں کونسلنگ سیشنز کے لیے بلایا گیا۔
عوامی مقامات پر خواتین کے ساتھ تمیز سے پیش آنے کی سخت وارننگ دی گئی۔ انہیں ان کے غیر اخلاقی رویے کے نتائج سے آگاہ کیا گیا۔
آئی پی ایس افسر سوماتھی کا یہ کوئی پہلا تجربہ نہیں ہے۔ وہ ماضی میں بھی اس طرح کے جرات مندانہ اقدامات کے لیے جانی جاتی ہیں۔
25 سال قبل قاضی پیٹ ریلوے اسٹیشن پر ڈی ایس پی کے طور پر بھی انہوں نے اسی طرح بھیس بدل کر خواتین کی حفاظت کا معائنہ کیا تھا۔
وہ اسٹیٹ انٹلیجنس بیورو (SIB) کی سربراہ رہ چکی ہیں اور کئی اعلیٰ درجے کے ماؤ نوازوں کے ہتھیار ڈالنے میں کلیدی کردار ادا کر چکی ہیں۔
انہوں نے یکم مئی کو ملکا جگِری کے پولیس کمشنر کا عہدہ سنبھالا ہے۔ خاتون پولیس کمشنر کے اس اقدام کو عوامی سطح پر، بالخصوص خواتین کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جب اعلیٰ حکام خود میدان میں اتر کر سچائی دیکھیں گے، تبھی خواتین کے لیے شہر محفوظ بن سکے گا۔