قومی

بریکنگ نیوز: مغربی بنگال میں بی جے پی لیڈر سُویندو ادھیکاری کے پی اے کا قتل، سیاسی تشدد میں اضافہ

سابق فوجی چندر ناتھ رتھ اس وقت حملے کا نشانہ بنے جب وہ شمالی 24 پرگنہ کے مدھیم گرام میں واقع اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے۔ حملے کے فوراً بعد انہیں مقامی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

کولکتہ : مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد شروع ہونے والا پرتشدد سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ریاست میں جاری سیاسی عدم استحکام اور تناؤ کے درمیان ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بی جے پی کے قدآور لیڈر سُویندو ادھیکاری کے نجی معاون (PA) چندر ناتھ رتھ کو بدھ کی رات گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

سابق فوجی چندر ناتھ رتھ اس وقت حملے کا نشانہ بنے جب وہ شمالی 24 پرگنہ کے مدھیم گرام میں واقع اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے۔ حملے کے فوراً بعد انہیں مقامی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ قتل سے چند گھنٹے پہلے تک چندر ناتھ رتھ اسمبلی میں ہفتہ کو ہونے والی نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ جیسی اہم شخصیات کی آمد متوقع ہے۔ واضح رہے کہ رتھ کا خاندان دہائیوں سے ادھیکاری کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔

مغربی بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد سے حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں۔ بی جے پی نے 294 میں سے 207 نشستیں جیت کر تاریخی اکثریت حاصل کی ہے۔

ممتا بنرجی نے ان نتائج کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے دھاندلی کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد بھڑکنے والے تشدد میں اب تک مزید 4 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں کے کارکنان شامل ہیں۔

کولکتہ کے کئی علاقوں سے توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے انتظامیہ کو تشدد کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’ اپنانے کی ہدایت دی ہے، لیکن ادھیکاری کے قریبی ساتھی کے قتل نے ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بنگال کی سیاست فی الحال خون آلود نظر آ رہی ہے اور امن کی اپیلیں شور و غل میں دبی ہوئی ہیں۔