محبوبہ کو پانے کے چکر میں عاشق جلتی چتا سے کھوپڑی اٹھا لایا، کالے جادو کا ہولناک رخ
جس چتا سے باقیات نکالی گئیں، وہ ایک 16 سالہ نوجوان شبھانشو کی تھی جس کا انتقال بیماری کے باعث ہوا تھا۔ جیسے ہی اہل خانہ آخری رسومات کے بعد وہاں سے رخصت ہوئے، ملزمان نے موقع پا کر چتا سے انسانی باقیات نکال لیں اور فرار ہو گئے۔
ہاپوڑ، اتر پردیش | ریاست اتر پردیش کے ضلع ہاپوڑ سے ایک ایسا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جس نے پولیس اور عوام دونوں کو حیران کر دیا ہے۔ ایک نوجوان نے اپنی مبینہ محبوبہ کو قابو میں کرنے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک تانترک (جادوگر) کے کہنے پر شمشان گھاٹ میں جلتی ہوئی چتا سے انسانی کھوپڑی نکال لی۔ پولیس نے اس گھناؤنے فعل میں ملوث تانترک سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ ہاپوڑ کے دیہات تھانہ علاقے کا ہے، جہاں تین دن قبل شمشان گھاٹ میں ایک جلتی ہوئی چتا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اطلاع ملی تھی۔ جس چتا سے باقیات نکالی گئیں، وہ ایک 16 سالہ نوجوان شبھانشو کی تھی جس کا انتقال بیماری کے باعث ہوا تھا۔ جیسے ہی اہل خانہ آخری رسومات کے بعد وہاں سے رخصت ہوئے، ملزمان نے موقع پا کر چتا سے انسانی باقیات نکال لیں اور فرار ہو گئے۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ مرکزی ملزم ‘امن’ ایک لڑکی سے یکطرفہ محبت کرتا تھا۔ اسے اور اس کے گھر والوں کو اپنے بس میں کرنے کے لیے وہ اودھیش شرما نامی ایک تانترک کے رابطے میں آیا۔
تانترک نے امن کو یہ یقین دلایا کہ اگر وہ جلتی چتا سے انسانی کھوپڑی لے آئے گا، تو اس کے گھر کی تمام پریشانیاں ختم ہو جائیں گی اور اس کی محبوبہ بھی اسے مل جائے گی۔
اسی لالچ میں آ کر امن نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ مکروہ قدم اٹھایا۔
پولیس نے سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج کی مدد سے تینوں ملزمین کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے دوران پولیس کو ملزمین کے قبضے سے 50 سے زائد مختلف لوگوں کی تصاویر برآمد ہوئیں جن کا استعمال مبینہ طور پر کالا جادو اور تنتر منتر کے لیے کیا جاتا تھا۔
چتا سے نکالی گئی ہڈیاں اور راکھ برآمد کر لی گئی۔
ملزم امن نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ "بابا (تانترک) نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ میرے تمام مسائل حل کر دیں گے، اسی بھروسے پر میں نے یہ سب کیا۔” پولیس اب اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ یہ گروہ اس سے قبل کتنے لوگوں کو اپنی باتوں اور اندھے عقیدے کے نام پر لوٹ چکا ہے۔
فی الحال تینوں ملزمین سلاخوں کے پیچھے ہیں، لیکن اس واقعے نے معاشرے میں پھیلی توہم پرستی اور جہالت کی ایک بھیانک تصویر پیش کر دی ہے۔