سوشیل میڈیاقومی

خاتون ایم ایل اے کے ساتھ ’غیر مناسب‘ حرکت کی ویڈیو وائرل

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بندو کرشنا نے اس حرکت کو ناپسند کیا اور فوری طور پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے چیریان فلپ کو روک دیا۔ انہوں نے گلے ملنے کے بجائے ہاتھ جوڑ کر (نمستے کہہ کر) انہیں جواب دیا اور وہاں سے تیزی سے آگے بڑھ گئیں۔

ترواننت پورم: کیرالہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر چیریان فلپ (Cherian Philip)کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں وہ پارٹی کی نومنتخب خاتون ایم ایل اے بندو کرشنا کو زبردستی گلے لگانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عوامی سطح پر ان کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
ریونت ریڈی کرپشن کے شہنشاہ، تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں: کویتا
سرینواس یادو ترقیاتی کاموں میں بری طرح ناکام: ڈاکٹر کوٹا نیلیما کا الزام
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
کانگریس کا مقصد خود کو خواتین کی انجمنوں کو مضبوط بنانا ہے

اطلاعات کے مطابق، کولم حلقہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والی بندو کرشنا پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ وہاں موجود دیگر ارکان نے ان سے ہاتھ ملا کر خیر مقدم کیا، تاہم جب وہ عمارت کے اندر داخل ہو رہی تھیں تو وہاں موجود سینئر لیڈر چیریان فلپ نے انہیں گلے لگانے کی کوشش کی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بندو کرشنا نے اس حرکت کو ناپسند کیا اور فوری طور پر خود کو پیچھے ہٹاتے ہوئے چیریان فلپ کو روک دیا۔ انہوں نے گلے ملنے کے بجائے ہاتھ جوڑ کر (نمستے کہہ کر) انہیں جواب دیا اور وہاں سے تیزی سے آگے بڑھ گئیں۔

کیرالہ میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) 102 نشستوں کے ساتھ اقتدار میں واپسی کر رہا ہے۔ 10 سال بعد حکومت سازی کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے رمیش چنیتھلا، وی ڈی ستھیسن اور کے سی وینوگوپال جیسے ناموں پر غور کرنے کے لیے یہ اہم اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس کے دوران یہ بدنظمی پیش آئی۔

سوشل میڈیا صارفین اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ چاہے یہ اقدام "احترام” کے طور پر ہی کیوں نہ ہو، لیکن کسی خاتون کی مرضی کے خلاف اسے چھونا یا گلے لگانے کی کوشش کرنا انتہائی غیر اخلاقی اور ناقابل قبول ہے۔

کئی حلقوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پارٹی قیادت اس معاملے پر سینئر لیڈر کے خلاف کارروائی کرے۔