ایس آئی آر مہم میں کوتاہی ہرگز برداشت نہیں، ناقص کارکردگی پر نامزد عہدے نہیں ملیں گے: چیف منسٹر ریونت ریڈی
ریاست کے تمام 119 اسمبلی حلقوں میں ایس آئی آر مہم کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے 30 جولائی کو ایک جامع اجلاس طلب کیا گیا ہے، جبکہ اس پیر کو 10 انچارج وزراء کے ساتھ خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا تاکہ مہم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹراے ریونت ریڈی نے کانگریس پارٹی کے رہنماؤں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم میں ناقص کارکردگی دکھانے والوں کو نامزد چیئرمین کے عہدے نہیں دیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطحی آن لائن جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں پر ناراضی کا اظہار کیا جو اب تک زمینی سطح پر سرگرم نہیں ہوئے اور مختلف اضلاع میں جاری ایس آئی آر مہم میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔
ریونت ریڈی نے ہدایت دی کہ تمام پارٹی رہنما فوری طور پر گاندھی بھون کے غیر ضروری دورے بند کریں اور 3 اگست تک، جو درخواستوں کی توسیع شدہ آخری تاریخ ہے، اپنی اپنی ذمہ داری والے اسمبلی حلقوں میں رہ کر مہم پر مکمل توجہ دیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ جوابدہی کا آغاز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ارکانِ پارلیمنٹ (ایم پیز) اپنے حلقوں میں مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے، ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی انہیں ہدایت دی گئی کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران بھی اپنے حلقوں کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیتے رہیں۔
ریاست کے تمام 119 اسمبلی حلقوں میں ایس آئی آر مہم کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے 30 جولائی کو ایک جامع اجلاس طلب کیا گیا ہے، جبکہ اس پیر کو 10 انچارج وزراء کے ساتھ خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا تاکہ مہم کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کانگریس پارٹی اب تک ریاست بھر میں 489 ایس آئی آر اجلاس منعقد کر چکی ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ خاص طور پر کمزور اسمبلی حلقوں میں مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
ریونت ریڈی نے تمام اراکینِ اسمبلی، حلقہ انچارجز اور چیئرمین حضرات کو ہدایت دی کہ وہ پارٹی کے بوتھ لیول ایجنٹس (BLAs) کی رپورٹوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور صرف سرکاری بوتھ لیول افسران (BLOs) کی رپورٹس پر انحصار نہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صرف بی ایل او رپورٹس پر بھروسا کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گاندھی بھون کی ٹیم کو مسلسل نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے تمام انچارج وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، کارپوریشن چیئرمین اور دیگر ذمہ داران کو ہدایت دی کہ آئندہ 10 دنوںکے دوران اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کا لازمی دورہ کریں تاکہ عوام سے براہِ راست رابطہ مضبوط بنایا جا سکے۔
نچلی سطح پر بہتر کارکردگی دکھانے والے کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ 100 بہترین بوتھ لیول ایجنٹس (BLAs) کو کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی سے ملاقات اور ان کے ساتھ یادگاری تصویر کھنچوانے کا خصوصی موقع فراہم کیا جائے گا۔
اس ورچوئل جائزہ اجلاس میں نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرمارکا، ٹی پی سی سی صدر مہیش گوڑ، اے آئی سی سی کی تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن، اے آئی سی سی سکریٹری سچن ساونت، ریاستی وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ایم ایل سیز اور دیگر پارٹی ذمہ داران نے شرکت کی۔