مدھیہ پردیش کابینہ میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) بل منظور، ایک ہی شادی قانونی ہوگی، طلاق کے قوانین میں بھی بڑی تبدیلیاں
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مقصد تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرنا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ "رام ہو یا رحیم، سب کو قانون کے تحت برابر کا درجہ ملے گا۔"
بھوپال: مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code – UCC) نافذ کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی زیر صدارت کابینہ نے مدھیہ پردیش یکساں سول کوڈ بل 2026 کو منظوری دے دی ہے۔ اب یہ بل 20 جولائی سے شروع ہونے والے ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا مقصد تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرنا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ انہوں نے کہا کہ "رام ہو یا رحیم، سب کو قانون کے تحت برابر کا درجہ ملے گا۔”
یو سی سی نافذ ہونے کے بعد کیا بدلے گا؟
مجوزہ قانون کے مطابق ریاست میں ایک وقت میں صرف ایک ہی شادی قانونی طور پر قابل قبول ہوگی۔ دوسری شادی اسی صورت میں ممکن ہوگی جب پہلی شادی عدالت کے ذریعے قانونی طور پر ختم ہو چکی ہو۔
اسی طرح تین طلاق کے ذریعے فوری طلاق کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی، جبکہ شادی اور طلاق سے متعلق تمام معاملات عدالت اور قانون کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
خواتین کو جائیداد میں برابر حقوق
بل کے مطابق وراثت اور آبائی جائیداد میں خواتین اور مردوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ شادی، طلاق، وراثت اور جائیداد سے متعلق قوانین تمام مذاہب کے لیے یکساں ہوں گے۔
لیو اِن ریلیشن شپ کے لیے رجسٹریشن لازمی
مجوزہ یو سی سی کے تحت لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑوں کو مقررہ عمر پوری ہونے کے بعد ایک ماہ کے اندر رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔ تاہم قانونی طور پر شادی شدہ جوڑے اس ضابطے سے مستثنیٰ رہیں گے۔
قانون میں خواتین کے وقار اور تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اگر کوئی شادی شدہ شخص اپنی شریک حیات کے علاوہ کسی اور کے ساتھ لیو اِن ریلیشن شپ میں رہتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی اور پانچ سال تک قید کی سزا کی بھی تجویز رکھی گئی ہے۔
شادی کی عمر اور رجسٹریشن
بل کے مطابق خواتین کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال اور مردوں کے لیے 21 سال برقرار رکھی گئی ہے۔ تمام شادیوں کا سرکاری رجسٹریشن لازمی ہوگا، جبکہ عدالت سے باہر طلاق کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
قبائلی علاقوں کو استثنا
ریاست کے قبائلی اور محفوظ قبائلی علاقوں کو یو سی سی کے دائرہ کار سے باہر رکھا گیا ہے۔
مسلم خواتین کی حمایت کا دعویٰ
وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کہا کہ حکومت نے یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے سے قبل دو ماہ تک عوام سے تجاویز حاصل کیں۔ اس مقصد کے لیے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے مختلف سماجی، مذہبی اور سیاسی نمائندوں سے مشاورت کی۔
ان کے مطابق تقریباً 80 فیصد مسلم خواتین نے یکساں سول قانون کی حمایت کی، جبکہ مسلم کمیٹی اراکین نے بھی اس پر رضامندی ظاہر کی۔
عوام کی بڑی تعداد نے حمایت کی
ریاستی حکومت کے مطابق یو سی سی کے حوالے سے 9 لاکھ سے زائد تجاویز موصول ہوئیں۔
93.54 فیصد شہریوں نے یو سی سی کی حمایت کی۔
92.20 فیصد افراد نے مرد اور عورت کے مساوی حقوق کی حمایت کی۔
92.66 فیصد نے وراثت میں خواتین کو برابر حقوق دینے کی تائید کی۔
تقریباً 90 فیصد لوگوں نے قانونی پیچیدگیوں کو کم کرنے کے لیے یکساں سول قانون کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
کابینہ نے دیگر اہم بلوں کو بھی منظوری دی
کابینہ اجلاس میں یو سی سی کے علاوہ متعدد دیگر بلوں کو بھی منظوری دی گئی، جن میں مدھیہ پردیش ہائی ویز ترمیمی بل 2026، فائر ایکٹ 2026، نجی یونیورسٹی ترمیمی بل، دھنونتری ہیلتھ یونیورسٹی بل، نجی کوچنگ اداروں کے ضابطہ بل، ایز آف ڈوئنگ بزنس سے متعلق اصلاحات اور مدھیہ پردیش لیبر کوڈ 2026 شامل ہیں۔