بین الاقوامیسوشیل میڈیاقومی

ویڈیو: لاکھوں روپے خرچ مگر سہولیات صفر! مکہ میں ہندوستانی عازمین کی کسمپرسی، ایک کمرے میں 16 افراد رہنے پر مجبور

"ہم نے لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں، لیکن یہاں ہمیں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ اتنی رقم لینے کے باوجود ہمیں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے۔"

بھوپال/ مکہ مکرمہ: حج 2026 کے لیے مکہ مکرمہ پہنچنے والے ہندوستانی عازمینِ حج کی جانب سے انتظامات کے حوالے سے شدید ناراضگی اور شکایات سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں عازمین نے رہائش، صفائی ستھرائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر حج کمیٹی اور متعلقہ حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مدھیہ پردیش اور ہندوستان کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے عازمین نے مکہ کے عزیزیہ علاقے سے ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں درج ذیل مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے:

گنجائش سے زیادہ افراد: عازمین کا الزام ہے کہ ایک ہی کمرے میں 16، 16 افراد کو ٹھہرایا گیا ہے، جس کی وجہ سے تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے۔

کئی خاندانوں کو الگ الگ کمروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں شدید ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ واش رومز انتہائی گندے ہیں اور گندا پانی کمروں میں داخل ہو رہا ہے۔

عمارتوں میں لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے بزرگ عازمین کو سخت دشواری ہو رہی ہے۔

"ہم نے لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں، لیکن یہاں ہمیں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ اتنی رقم لینے کے باوجود ہمیں کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا ہے۔”

مرکزی حج کمیٹی سے مداخلت کی اپیل

مدھیہ پردیش سے اس سال تقریباً 8 ہزار عازمین حج کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مدھیہ پردیش سرو دھرم سدبھاؤنا منچ کے سیکرٹری نے مرکزی حج کمیٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وائرل ویڈیوز کی فوری تصدیق کی جائے۔ایک خصوصی ٹیم مکہ روانہ کی جائے جو عزیزیہ میں مقیم ہندوستانی حاجیوں کی رہائش گاہوں کا معائنہ کرے۔ حج کے اصل ایام شروع ہونے سے پہلے ان شکایات کا ازالہ کیا جائے، ورنہ ہجوم بڑھنے پر صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق مرکزی حج کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور جلد ہی ایک ٹیم معائنے کے لیے بھیجی جائے گی تاکہ کوتاہی برتنے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے اور حاجیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند سالوں سے ہندوستانی عازمین کی جانب سے رہائشی سہولیات کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں، جس نے حج کمیٹی کے انتظامات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔